رسائی کے لنکس

آب و ہوا میں تبدیلی پر نئی رپورٹ کرۂ ارض کے لیے 'ریڈ الرٹ'


فائل فوٹو

آب و ہوا میں تیزی سے رونما ہوتی ہوئی تبدیلیوں پر اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ نے تغیرات کو روکنے کی موجودہ کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مناسب اقدامات کرنے میں مزید تاخیر کرہ ارض کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی 'کلائمٹ ایکشن رپورٹ' میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملکوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور اس سلسلے میں پیرس معاہدے کے اہداف کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صدی کے آخر تک ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک روکا جا سکے۔

سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق دنیا کو فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے اور دوسرے اہم اقدامات کے ذریعے یہ یقینی بنانا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ایک اعشاریہ پانچ فی صد سے بڑھنے نہ پائے۔

اقوامِ عالم کے آب و ہوا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے شروع کیے گئے قومی منصوبوں میں پیش رفت پر نظر رکھنے والی اقوامِ متحدہ کی آب و ہوا پر یہ رپورٹ ابھی جزوی طور پر سامنے آئی ہے۔

آب و ہوا کے چیلنج کا مقابلہ کرنے اور دنیا میں گرمی کو روکنے کے سلسلے میں رپورٹ کے مصنفین نے کہا ہے کہ ابھی ممالک خاطر خواہ پیش رفت کرنے سے کہیں دور ہیں۔ لہذا تمام ممالک کو 2015 کے پیرس معاہدے پر سختی سے کار بند رہنا ہو گا۔

رپورٹ میں گزشتہ سال کے آخری دن یعنی اکتیس دسمبر تک کے ڈیٹا سے استفادہ کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی یہ مکمل رپورٹ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں رواں برس نومبر میں تمام شراکت داروں کے 26 ویں اجلاس کے موقع پر پیش کی جائے گی۔

دریں اثنا رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے دنیا کے لیے 'ریڈ الرٹ' قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عالمی ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے میں 2021 کا سال بنانے یا بگاڑنے کا سال ثابت ہو گا۔

انتونیو گوتریس کے مطابق سائنس نے واضح کر دیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو ایک اعشاریہ پانچ کی سطح پر رکھنے کے لیے ہمیں زہریلی گیسوں کے اخراج میں سن 2030 تک 45 فی صد کی کمی کرنا ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG