رسائی کے لنکس

دنیا کے اولین نیشنل پارک کا قدرتی حسن گلوبل وارمنگ سے متاثر ہو رہا ہے


ییلوسٹون نیشنل پارک کی ایک جھیل۔ فائل فوٹو

امریکہ میں واقع دنیا کی اولین قدرتی سیرگاہ 'ییلوسٹون نیشنل پارک' کا حسن رفتہ رفتہ ماند پڑ رہا ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر موجود جنگلی حیات کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ آب و ہوا کی تبدیلی اور کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔

ییلو سٹون کو 1872 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا اور اسے دنیا کے پہلے باضابطہ نیشنل پارک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ییلوسٹون نیشنل پارک کا رقبہ 3500 مربع میل ہے۔ یہ تین امریکی ریاستوں وایومنگ، مونٹانا اور آئیڈاہو میں پھیلا ہوا ہے۔ پارک کا زیادہ تر حصہ ریاست وایومنگ میں آتا ہے۔

ییلو سٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں نایاب نسل کے جانور پائے جاتے ہیں۔
ییلو سٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں نایاب نسل کے جانور پائے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں سردیوں میں خوب برف پڑتی ہے اور اپریل شروع ہوتے ہی پارک کے پہاڑی سلسلے سرسبز و شاداب اونچے نیچے میدانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس پارک میں خوش رنگ قدرتی پھول اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ پہاڑیوں کے نشیب و فراز میں میلوں تک رنگوں کی چادر بچھ جاتی ہے۔

پارک کی پہاڑیوں کی رنگت زردی مائل ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ رنگت آتش فشانی سلسلے کی وجہ سے ہے۔ ان پہاڑوں میں بہت سے غار، بل کھاتے دریا اور جھیلیں ہیں۔ لیکن سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش گرم پانی کے وہ چشمے ہیں جو گاہے بگاہے بھاپ ملا پانی اچھال کر باہر نکالتے رہتے ہیں۔

ییلوسٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں زمین میں ایسے سوراخ ہیں جن سے بڑی تیزی سے بھاپ خارج ہوتی ہے۔
ییلوسٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں زمین میں ایسے سوراخ ہیں جن سے بڑی تیزی سے بھاپ خارج ہوتی ہے۔

پارک میں میلوں پھیلی سڑکوں پر لانگ ڈرائیو کا ایک اپنا حسن ہے۔ ارد گرد کے قدرتی مناظر اور نظارے اتنے دلکش اور دلفریب ہیں کہ انسان کو سحرزدہ کر دیتے ہیں۔

پارک میں سینکڑوں قسم کی جنگلی حیات پائی جاتی ہے، جن میں ریچھ، لومڑ، جنگلی بھینسے اور بیسیوں قسم کے پرندے اور دوسرے چھوٹے بڑے جانور ہیں، جو قدرتی ماحول میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔

ییلوسٹوں نیشنل پارک میں برف باری میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور 1950 کے مقابلے میں سالانہ دو فٹ کم برف پڑ رہی ہے۔
ییلوسٹوں نیشنل پارک میں برف باری میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور 1950 کے مقابلے میں سالانہ دو فٹ کم برف پڑ رہی ہے۔

حالیہ عشروں میں 'ییلوسٹون نیشنل پارک' کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سائنسی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے قبل گزشتہ 8 لاکھ سال کے عرصے میں اس علاقے کے درجہ حرارت میں کوئی ردو بدل نہیں ہوا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1950 سے اس علاقے کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا اور اس کے بعد سے اب تک یہاں برف پڑنے میں سالانہ دو فٹ تک کی کمی ہو چکی ہے۔

ارضیاتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ نیشنل پارک کا قدرتی حسن آنے والے عشروں میں برقرار نہیں رہ سکے گا اور آب و ہوا کی تبدیلی اسے نگل لے گی۔

ییلوسٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں ریچھ پائے جاتے ہیں۔
ییلوسٹون نیشنل پارک میں بڑی تعداد میں ریچھ پائے جاتے ہیں۔

1950 کے عشرے سے اب تک پارک کا عمومی درجہ حرارت دو ڈگری فارن ہائیٹ تک بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس صدی کے آخر تک اس علاقے کا درجہ حرارت پانچ سے 10 ڈگری فارن ہائیٹ تک بڑھ جائے گا۔

مونٹانا سٹیٹ یونیورسٹی اور وایومنگ یونیورسٹی کے ارضیاتی سروے کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ درجہ حرارت کے اضافے سے نہ صرف ییلو سٹون نیشنل پارک کا حسن ماند پڑ جائے گا بلکہ جانوروں کی کئی نسلیں یا تو اس علاقے سے نقل مکانی کر جائیں گی یا ان کے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

نیشنل پارک کی انتظامیہ یہاں کی خوبصورتی اور جنگلی حیات کو بچانے کے لیے کچھ زیادہ کرنے سے قاصر ہے کیونکہ آب و ہوا کی تبدیلی ایک عالمی عمل ہے جس پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر کے ملکوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ییلوسٹون نیشنل پارک کا ایک خوبصورت منظر۔
ییلوسٹون نیشنل پارک کا ایک خوبصورت منظر۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے میں کئی اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی اہداف پر کام کی رفتار سست ہے۔

ییلو سٹون نیشنل پارک حسن فطرت میں دلچسپی رکھنے والوں میں اتنا مقبول ہے کہ ہر سال 40 لاکھ سے زیادہ افراد اسے دیکھنے آتے ہیں۔

پارک کے منتظمین کو توقع ہے کہ کرونا وائرس سے منسلک پابندیاں نرم ہونے کے بعد سیاحوں کی تعداد پہلے کی نسبت بڑھ جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG