رسائی کے لنکس

چین کا جنسی ہراسانی کے خلاف نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ


رپورٹس کے مطابق ایوان کی قائمہ کمیٹی نے ’وومن رائٹس اینڈ انٹرسٹ پروٹیکشن لا‘  کے مسودے پر بحث کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں انسانی حقوق کے کارکن صنفی مساوات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

چین کی اعلیٰ قانون ساز ادارے نیشنل پیپلز کانگریس میں رواں ہفتے کے اوائل میں ملازمت کی جگہوں پر جنسی ہراسانی اور صنفی تفریق کے خلاف مزید ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے ایک قانون پر بحث ہوئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اس قانون میں نامناسب رویوں کے بارے میں مزید واضح تشریحات کا استعمال کیا گیا ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایوان کی قائمہ کمیٹی نے ’وومن رائٹس اینڈ انٹرسٹ پروٹیکشن لا‘ کے مسودے پر بحث کی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں انسانی حقوق کے کارکن صنفی مساوات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ملک میں خواتین کے حقوق کی بین الاقوامی مہم ’می ٹو‘ کی تحریک بھی جاری ہے۔

عالمی ادارہٴ تجارت کی جانب سے جاری کیے جانے والی عالمی صنفی مساوات کی رینکنگ میں چین 153 ممالک میں 107 ویں نمبر پر آتا ہے۔

ملک میں اقتدار اور تجارت کے ایوانوں میں مردوں کی اکثریت ہے۔ پارلیمان میں خواتین کی تعداد ایک چوتھائی کے برابر ہے جب کہ ملک کی واحد سیاسی جماعت کمیونسٹ پارٹی کے، جو حکمران بھی ہے، اعلیٰ ترین ادارے 25 رکنی پولٹ بیورو میں صرف ایک خاتون شامل ہیں۔

’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق نئے قوانین کے تحت ملازمت دیتے ہوئے خواتین درخواست گزاروں سے یہ نہیں پوچھا جا سکے گا کہ کیا وہ مستقبل میں شادی کرنا یا ماں بننا چاہتی ہیں؟

اس کے ساتھ ہی خواتین کے ایسے موقعے پر حاملہ ہونے کے ٹیسٹ لینے پر بھی پابندی ہو گی۔ اس قانون کے تحت مالکان خواتین ملازمین پر مردوں کو فوقیت بھی نہیں دے سکیں گے۔

برطانیہ: چین میں انسانی حقوق پامال کرنے والوں پر پابندی کا مطالبہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:52 0:00

اب تک چین میں کسی بھی قانون میں جنسی ہراسانی کی سب سے واضح تشریح کرتے ہوئے اس مسودے میں لکھا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی ہو گا اگر کسی خاتون سے اس کی مرضی کے بغیر جنسی اشاروں میں بھی گفتگو کی جائے۔

قانون کے مطابق جسمانی طور پر خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں جنسی طور پر ہیجان خیز تصاویر بھیجنا یا جنسی تعلقات کے بدلے فوائد دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

سی سی ٹی وی چینی حکومت کی پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہے اور سرکاری چینل ہے جس پر پارٹی اور حکومت کے بیانات جاری کئے جاتے ہیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق سی سی ٹی وی کی جانب سے اس خبر پر تبصرے کرنے کے لیے کیے گئے رابطے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس رپورٹ میں کچھ مواد خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG