رسائی کے لنکس

اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کون ہیں؟


نفتالی بینیٹ

اسرائیل میں 12 برس تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے بعد بن یامین نیتن یاہو کا دورِ اقتدار ختم ہو گیا ہے جس کے بعد قدامت پسند نظریات کے حامل نفتالی بینیٹ اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔

آٹھ سیاسی جماعتوں کے مابین طے پانے والے حکومت سازی کے ایک غیر معمولی سمجھوتے کے تحت بینیٹ دو برس کے لیے وزیرِ اعظم ہوں گے جس کے بعد آئندہ دو برس کے لیے یائر لیپد وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

اتوار کو پارلیمنٹ میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے دوران حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے اتحاد نے 120 ارکان پر مشتمل ایوان میں 59 کے مقابلے میں 60 ووٹ حاصل کیے۔

'انتہائی قوم پرست' سیاسی رہنما

تل ابیب کے نواحی علاقے رعنانا سے تعلق رکھنے والے 49 سالہ بینیٹ کٹر قدامت پسند یہودی سمجھے جاتے ہیں۔

اُنہوں نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ اسرائیلی شہر حیفہ میں امریکہ میں جنم لینے والے والدین کے ساتھ گزارا۔

وہ یہودیوں کی روایتی مذہبی ٹوپی 'کپا' بھی باقاعدگی سے پہنتے ہیں۔

بینیٹ نے نوے کی دہائی میں سافٹ ویئر کمپنی شروع کی جو بعدازاں 2005 میں ایک امریکی کمپنی کو فروخت کر دی گئی۔

فلسطینیوں کے حوالے سے سخت گیر مؤقف

نفتالی بینیٹ بھی اپنے پیش رو بن یامین نیتن یاہو کی طرح فلسطینوں کے حوالے سے سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں۔ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے مخالف جب کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ اثر مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کے حق میں ہیں۔

بینیٹ نے امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کے کہنے پر مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل سست کرنے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

مختلف مواقع پر بینیٹ یہ کہتے رہے ہیں کہ 2006 کی اسرائیل، لبنان جنگ کی تلخیوں نے اُنہیں سیاست میں قدم رکھنے پر مجبور کیا۔

بعض مبصرین اور اسرائیلی میڈیا ان کے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر سخت گیر مؤقف اور قدامت پسند نظریات کی وجہ سے اُنہیں 'انتہائی قوم پرست' قرار دیتے رہے ہیں۔

نیتن یاہو سے قربتیں اور پھر دوریاں

بینیٹ، نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حامی رہے ہیں اور 2019 سے 2020 کے دوران ان کی حکومت کے وزیرِ دفاع رہ چکے ہیں۔

سن 2013 میں رُکن پارلیمنٹ بننے کے بعد وہ نیتن یاہو کے دور میں تعلیم، دفاع اور بیرون ملک مقیم اسرائیلیوں کے اُمور کے وزیر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

اُن کی جماعت کو مارچ میں ہونے والے انتخابات میں صرف سات نشستیں ملی تھیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مارچ میں انتخابات سے قبل وہ مختلف مواقع پر یہ موقف دہرا چکے ہیں کہ وہ سیاسی جماعت یش عتید کے سربراہ یائر لیپد کو وزیرِ اعظم نہیں بننے دیں گے۔

تاہم یائر لیپد کی جماعت مارچ میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے بعد دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی۔

ماہرین کے مطابق جب نفتالی بینیٹ کو لگا کہ نیتن یاہو حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوں گے تو پھر اُنہوں نے یائر لیپد کے ساتھ سیاسی معاہدہ کر لیا۔

نیتن یاہو کے حامی نفتالی بینیٹ کے اس اقدام کو غداری اور ووٹرز کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہیں۔ البتہ نفتالی بینیٹ کا یہ مؤقف ہے کہ اُنہوں نے اسرائیل کو سیاسی بحران سے بچانے اور قوم کو متحد رکھنے کے لیے حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل فلسطین تنازع: عرب اور یہودی دونوں ہی پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:08 0:00

مخلوط حکومت میں مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں اور چیلنجز

البتہ، نئے حکومتی بندوبست میں مختلف نظریات اور سیاسی امور پر مختلف آرا رکھنے والی جماعتوں کی شمولیت کے باعث اپنی پالیسی کو آگے بڑھانا اسرائیل کے نئے وزیراعظم کے لیے بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

نئی مخلوط حکومت میں عرب پارٹی 'رام' اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کی شمولیت کے باعث مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آںے والے دنوں میں فلسطین کے معاملے پر حکومت میں تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔

آٹھ جماعتوں کی اس اتحادی حکومت میں بعض جماعتیں فلسطین کے حوالے سے سخت مؤقف اور دو ریاستی حل کی کٹر مخالف ہیں جب کہ عرب اور بائیں بازو کی بعض جماعتیں دو ریاستی حل کی حمایتی ہیں۔

اتحاد میں شامل 'یامینا' اور 'نیو ہوپ' مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حق میں ہیں جب کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی مخالف سمجھتی جاتی ہیں۔

البتہ، نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اختلافی اُمور کو بالائے طاق رکھ کر پہلے معیشت، کرونا وبا اور دیگر معاملات پر توجہ دینا ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG