رسائی کے لنکس

اغوا کی مبینہ سازش کا ہدف ایرانی نژاد خاتون صحافی سے بلنکن کی ٹیلی فون پر گفتگو


مسیح علی نژاد، ایرانی صحافی اور خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں (فائل فوٹو)

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ ایرانی نژاد امریکی صحافی نے انتہائی جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے، جنہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سے قبل امریکی محکمہ انصاف نے بتایا تھا کہ مسیح علی نژاد کے اغوا کی مبینہ منصوبہ سازی ایران کی ایما پر کی گئی تھی۔

بلنکن نے پیر کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کی مسیح علی نژاد کے ساتھ اچھی گفتگو ہوئی ہے۔ وہ وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے ٹیلی ویژن میزبان ہیں اور ایرانی حکومت کی ناقد سمجھی جاتی ہیں۔

اپنی پوسٹ میں بلنکن نے کہا کہ میں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ ہمیشہ دنیا بھر میں آزادنہ رائے رکھنے والے صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام کی حمایت جاری رکھے گا۔ بقول ان کے، ہم ان کی آواز کو خاموش کرنے کے اوچھے ہتھکنڈوں کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔

علی نژاد نے کہا کہ بلنکن سے ان کی بات چیت 15 منٹ تک جاری رہی اور یہ کہ اعلیٰ امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ یہ سوچنا کہ ایران امریکی سرزمین سے کسی کو اغوا کروا سکتا ہے، خاص طور پر قابل مذمت ہے۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں مسیح علی نژاد نے بتایا کہ سیکرٹری بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اسلامی جمہوریہ کی جانب سے درپیش خطرات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ اور یورپ میں اپنے منحرفین کو کس طرح ہدف بناتی ہے۔ بقول ان کے، ''انہوں نے مجھے اس بات کا یقین دلایا کہ امریکہ اس منصوبہ بندی پر ایران کی حکومت کو جوابدہ ٹہرائے گا''۔

گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف نے کہا تھا کہ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے پانچ ایرانیوں پر فرد جرم عائد تھی جن کی بروکلین کی ایک صحافی، مصنفہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کو اغوا کرنے کی مبینہ سازش بے نقاب ہوئی ہے۔ خاتون صحافی پر یہ الزام تھا کہ وہ ایرانی قوانین اور طریقہ کار میں تبدیلیاں لانے کی غرض سے رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لئے کوشاں رہی ہیں، اور ایران اور دنیا بھر کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے کام کو آگے بڑھانے میں متحرک رہی ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کی پریس ریلیز میں اس سازش میں بنائے جانے والے ہدف کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔

بعد ازاں، علی نژاد نے، جو نیو یارک شہر کے علاقے بروکلین میں رہائش پذیر ہیں، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یہ بات افشا کی کہ یہ کوشش انہیں نشانہ بنانے کے لیے تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ پر شائع ایک بیان میں امریکہ کی جانب سے لگائے جانے والے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہے، اس قابل تک نہیں کہ اس پر رد عمل کا اظہار کیا جائے۔

علی نژاد سنہ 2000ء میں ایران میں شعبہ صحافت سے وابستہ تھیں، اور اپنی تحاریر میں حکومت کی بدانتظامی اور بدعنوانی کا پردہ چاک کیا کرتی تھیں، جس کی پاداش میں ان کا صحافتی اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا تھا، اور انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ سنہ 2009ء میں وہ اپنا آبائی وطن چھوڑ کر برطانیہ آ گئیں، جہاں سے وہ سال 2014ء میں نیویارک پہنچیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG