رسائی کے لنکس

اسرائیل، حماس جنگ بندی کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مشرقِ وسطیٰ روانہ


امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن (فائل فوٹو)

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن پیر کو اپنے پہلے دورۂ مشرقِ وسطیٰ پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ اسرائیلی اور فلسطینی اتھارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

بلنکن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حال ہی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔

اس لڑائی میں غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق 230 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جب کہ اسرائیل نے بھی اپنے 12 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر غزہ کے لیے امداد اور انفراسٹرکچر کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔

اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' سے گفتگو کرتے ہوئے بلنکن کا کہنا تھا کہ "ہماری اولین ترجیح غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔"

اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی نیوز' کو دیے گئے انٹرویو میں بلنکن نے کہا تھا کہ اب ایسے تصفیے کا وقت آ گیا ہے جو اسرائیلی اور فلسطینیوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہو۔

بلنکن کے بقول فلسطینیوں کو امن اور عزت کے ساتھ ایک الگ ریاست میں رہنے کی اُمید رکھنی چاہیے کیوں کہ صدر جو بائیڈن اس تنازع کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے حالیہ تنازع کا ذمے دار فلسطینی گروپ حماس کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس نے فلسطینی عوام کو بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

بائیڈن انتظامیہ دو ریاستی حل کے لیے پرعزم

بائیڈن انتظامیہ یہ واضح کر چکی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازع کا دو ریاستی حل ہی ہے۔

جمعے کو امریکہ کے دورے پر آئے جنوبی کوریا کے صدر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا تھا کہ جب تک خطے کے ممالک اسرائیل کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر وجود کو تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔

بائیڈن کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سیکیورٹی اور غزہ میں اُن کی مدد کرنا بھی ضروری ہے۔

بائیڈن انتظامیہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ غزہ میں بحالی اور تباہ شدہ ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے حماس کے بجائے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

خیال رہے کہ غزہ حماس کے زیرِ اثر ہے جب کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کا اثر و رسوخ ہے جس کے صدر محمود عباس ہیں۔

مصری ثالث کاروں کی فلسطینی صدر سے ملاقات

دریں اثنا مصری ثالث کاروں نے اتوار کو مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے جس میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے سمیت دیگر اُمور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ مصر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا تھا جس کی کوششوں کے نتیجے میں فریقین جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنازع کے جامع حل پر زور دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے سیکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل اور فلسطین دو الگ الگ جمہوری ریاستوں کے طور پر امن کے ساتھ رہ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG