رسائی کے لنکس

logo-print

رمضان میں ورزش کے لیے بہترین وقت کیا ہے؟


فائل فوٹو

وزیرِ اعظم عمران خان سے حال ہی میں ٹیلی فون کے ذریعے عوام سے بات چیت کے سیشن دوران ایک شہری نے سوال کیا تھا کہ وہ رمضان میں کس وقت ورزش کرتے ہیں۔

شہری کے سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ رمضان میں ہمیشہ روزہ کھولنے سے پہلے ہی ورزش کرتے ہیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ اگر آپ روزہ رکھ کر ورزش نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ رمضان کو ضائع کر رہے ہیں۔

رمضان میں ورزش کے حوالے سے متعدد افراد کے ذہن میں بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا روزہ رکھ کر ورزش کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اور رمضان میں ورزش کرنے کا بہترین وقت کیا ہو سکتا ہے۔

ان سوالات کے حوالے سے کراچی کے آئی ایس ایس اے سرٹیفائیڈ کارڈیو اینڈ ڈائیٹرک ٹرینر اور ڈینٹل سرجن ڈاکٹر حسنین رضوی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان میں ورزش کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ آپ بہت سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رمضان میں ورزش کرنا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ لوگوں کو رمضان میں بھی ورزش کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ جسم کو پُھرتیلا اور توانا رکھتی ہے۔

رمضان میں ورزش کا بہترین وقت؟

بہت سے افراد رمضان میں ورزش کرنے کے اوقات کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں روزہ رکھ کر ورزش کرنی چاہیے یا روزہ کھولنے کے بعد۔

اس ضمن میں ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ رمضان میں ورزش کرنے کے اوقات بہت زیادہ معنی رکھتے ہیں کہ آپ کس وقت ورزش کر رہے ہیں۔

ان کے بقول اگر آپ روزے کے حالت میں صبح ہی ورزش کر لیتے ہیں تو یہ آپ کی صحت کے لیے ایک اچھا فیصلہ ثابت نہیں ہو گا۔ کیوں کہ صبح ورزش کرنے کے بعد آپ کے جسم میں پورا دن گزارنے کے لیے توانائی باقی نہیں رہے گی۔

انہوں نے رمضان میں ورزش کے بہترین وقت کے حوالے سے بتایا کہ افطار سے 20 سے 30 منٹ پہلے ورزش کرنا معاون ثابت ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب آپ ورزش کر کے فارغ ہوں گے تو اس کے تھوڑی ہی دیر بعد روزہ کھولنے کا وقت ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر کوئی روزے کی حالت میں ورزش نہیں کرنا چاہتا تو انہیں چاہیے کہ وہ افطار میں بہت ہلکی غذا لیں اور افطار کے کچھ دیر بعد ورزش کی جا سکتی ہے۔

روزے کی حالت میں کس قسم کی ورزش کی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر حسنین رضوی کہتے ہیں کہ ہمیں ہائی انٹینسیٹی انٹرول ٹریننگ یا ورک آؤٹ کرنے چاہیئں۔

ہائی انٹینسیٹی انٹرول ٹریننگ میں لنجز، اسکواٹس، رننگ، کرنچز اور اس طرح دیگر ایکسر سائز شامل ہوتی ہیں جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور یہ ورزش جسم کی چربی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم 20 منٹ ورزش لازمی کی جائے اور ہر دو سے تین دن بعد اپنی ورزش کا دورانیہ بڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ ایک ہی طرح کی ورزش کی جائے تو اس سے جسم پر اثرات کم ہوں گے۔

ان کے بقول اگر روزانہ ٹریڈ مِل (ورزش کی مشین) کے ذریعے بھی ورزش کی جائے تو دو سے تین دن بعد ٹریڈ مِل کی رفتار اور دورانیے کو بڑھاتے رہنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے اور ورزش کرنے سے بہت توانائی خرچ ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جو غذائیت سے بھر پور ہو۔ پھل اور سبزیاں توانائی بخش ہوتی ہیں اور ساتھ ہی پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔

رمضان میں وزن کم اور معتدل رکھنے کا طریقہ

ڈاکٹر حسنین رضوی کے مطابق رمضان میں فٹ رہنے کا ایک انتہائی آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے وزن، قد اور عمر کے حساب سے مینٹیننس کیلوریز نکالیں۔

ان کے مطابق مینٹیننس کیلوریز وہ ہوتی ہیں جس سے وزن معتدل رہتا ہے۔ اگر مینٹیننس کیلوریز سے زیادہ کیلوریز لی جائیں تو اس سے وزن بڑھے گا اور اگر اس سے کم کیلوریز لی جائیں تو وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

لیکن سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ 'کیلوریز' ہوتی کیا ہیں؟ کیلوری یا حرارہ بنیادی طور پر توانائی ناپنے کا یونٹ ہے جس کی تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک گرام پانی کا درجۂ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھانے کے لیے درکار توانائی یا حرارت کو ایک کیلوری کہا جاتا ہے۔

سن 1948 سے کیلوری کو توانائی کی ایک اور اکائی 'جول' کے تناسب سے بیان کیا جاتا ہے جس کے مطابق ایک کیلوری چار اعشاریہ دو جول کے مساوی ہوتی ہے۔

خوراک میں شامل کیلوریز سے مراد اس سے حاصل ہونے والی توانائی ہے جس کا تعین کیلوریز کی مقدار سے کیا جاتا ہے۔

ہم روز مرہ جو بھی غذا کھاتے ہیں اس میں کیلوریز کی الگ الگ مقدار ہوتی ہے۔ یہی کیلوریز انسانی جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں اور کام کاج کے قابل بناتی ہیں۔

غذا کے ذریعے جسم کو ملنے والی کیلوریز کی غیر استعمال شدہ مقدار وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے وزن کم کرنے یا معتدل رکھنے کے لیے اپنی روزمرہ کیلوریز کی ضرورت اور کھانے پینے کی اشیا میں کیلوریز کی مقدار کو دیکھتے ہوئے غذائی معمول ترتیب دینا چاہیے۔

ڈاکٹر حسنین رضوی کا کہنا ہے کہ اگر رمضان میں اپنا وزن کم کرنا ہے تو مثال کے طور پر آپ کی مینٹیننس کیلوریز 1800 ہیں تو وزن کم کرنے کے لیے 1400 یا 1500 کے قریب کیلوریز لینی ہوں گی۔ اسی طرح کی غذا لینے سے آپ کا وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

ایسے لوگ جو رمضان میں اپنا وزن معتدل رکھنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی مینٹیننس کیلوریز کو مدِ نظر رکھ کر ہی غذا کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG