رسائی کے لنکس

logo-print

بیلجئم: ایرانی سفارتکار کو دہشت گردی کے الزام میں بیس سال کی قید


بیلجیئم کے شہر انٹورپ کے کورٹ ہاؤس کے باہر مقدمے کی سماعت کے وقت پولیس ایل کار گشت کر رہے ہیں۔ 4 فروری 2021

بیلجئم کی ایک عدالت نے سفارتی استثنا مانگنے والے اس ایرانی شخص کو 20 سال کی قید سنائی ہے جس نے سن 2018 میں پیرس میں بم دھماکہ کی کوشش کی تھی۔

اسد اللہ اسدی اس وقت آسٹریا میں ایرانی مشن کے ساتھ منسلک تھا، جب سن 2018 میں اس نے جلا وطن ایرانی کارکنوں کی فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ریلی پر حملے کیلئے دھماکہ خیز مواد فراہم کیا تھا۔ انٹورپ کی عدالت نے انہیں سزا سنائی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب کسی ایرانی عہدیدار کو، سن 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد، یورپی یونین میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر سزا سنائی گئی۔

یہ سزا ایک ایسے وقت دی گئی ہے جب صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے میں واپس شمولیت اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے پیش رو، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نہ صرف جوہری معاہدے سے الگ ہوئے تھے بلکہ انہوں نے ایران پر پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔

بم حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔ اسدی کو، جو اِس وقت 49 برس کے ہیں ، جولائی سن 2018 کو جرمنی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جرمنی اور بیلجئم کے حکام نے اسدی کے سفارتی استثنا کے دعویٰ کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے تین ساتھیوں کو بھی ناکام بم دھماکے میں ملوث ہونے 15 سے 18 سال کی قید سنائی گئی ہے۔ تینوں ایرانی نژاد بیلجئم کے شہری ہیں۔

استغاثہ کے مطابق، اسدی نے ایک کمرشل فلائیٹ کے ذریعے ایران سے دھماکہ خیز مواد آسٹریا اسمگل کیا تھا۔ اسدی کا سفارتی استثنا کا دعویٰ عدالت نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ ایک تو اِنہیں آسٹریا سے گرفتار نہیں کیا گیا، جہاں ان کی تعیناتی تھی، اور دوسرے وہ اس وقت چھٹیوں پر تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو ایران کی ساکھ خراب کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو ایران کی ساکھ خراب کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

انٹورپ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں بہ اصرار کیا ہے کہ ایران مقدمہ میں ملوث نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ناکام بم حملے میں ملوث افراد کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروسز سےتھا۔

جس ریلی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اس میں کئی سینئر سیاست دان آنے والے تھے جن کا تعلق امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک سے تھا۔ ان شخصیات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر، نیوٹ گنگرچ، نیو یارک کے سابق میئر روڈی جولیانی اور تقریباً نصف درجن برطانوی قانون ساز شامل تھے۔

مقدمے کی کاروائی میں پیش کی جانے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ بیلجئم کے عہدیداروں نے اپنی شہادتوں میں بتایا کہ اسدی نے لگز مبرگ میں قائم ایک پیزا ہٹ میں دھماکہ خیز مواد اپنے دو ساتھیوں کو دیا۔ یہ دو ساتھی، 40 سالہ عامر سا دونی اور 36 سالہ نسیمے نامی افراد تھے، جنہیں بیلجئم میں سیاسی پناہ ملی اور بعد میں انہیں بیلجئم کی شہریت بھی مل گئی۔

اسرائیلی انٹیلی جنس سے معلومات کے بعد، بیلجئم کی پولیس نے اِن دو افراد کے قبضے سے ساڑھے پانچ سو گرام ٹی اے ٹی پی دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بم دھماکہ منصوبے کو ایران کی ساکھ کو خراب کرنے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیا تھا۔

تاہم بیلجئم کی سٹیٹ سیکیورٹی سروس کے سربراہ، یاک ریز نے استغاثہ کو لکھے گئے ایک خط میں تحریر کیا تھا کہ انٹیلی جنس حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ناکام بم دھماکے کے پیچھے ریاستی سرپرستی تھی اور اس کی منظوری تہران سے ہوئی تھی۔

بیلجئم کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس ناکام بم دھماکے کا مقصد اور ہدف جلا وطن اپوزیشن لیڈر مریم رجاوی تھیں، جو کہ نیشنل کونسل آف ریزسٹنس ٹو ایران کی لیڈر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG