رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا بحران، ایشیائی امریکی طبی عملے کو بھی امتیازی رویوں کی شکایت


ایشیائی امریکی کمیونٹی کے احتجاج میں شریک ایک ماں اور بیٹا 'سٹاپ ایشئین ہیٹ'کا سائن اٹھائے ہوئے ہیں۔ فائل فوٹو رائٹرز

امریکہ میں صحت کے شعبہ سے وابستہ ایشیائی امریکی عملے کو گزشتہ ایک سال کرونا کی وبا کے دوران نفرت پر مبنی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ کرونا وائرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا۔

ایشیائی امریکیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے ادارے "سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ" نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پچھلے سال مارچ سے رواں سال فروری کے دوران ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی 3795 حملے کئے گئے۔

ان میں سے500 واقعات اس سال کے آغاز سے فروری کے آخر تک ریکارڈ کیے گئے۔

ایشیائی امریکی شہریوں کے خلاف گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں ہونے والے حملوں میں چھ ایشیائی خواتین ہلاک ہوئی تھیں۔

امریکی ادارہ مردم شماری کی تعریف کے مطابق ایشیائی امریکیوں سے مراد ایشیائی ملکوں، چین، فلپائن، ویتنام، کوریا، جاپان، جنوبی ایشیا، اور دیگر ایشیائی ملکوں سے آکر امریکہ میں آباد ہونے والے باشندے ہیں۔

نیو یارک شہر میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں، گزشتہ سال 2020 میں 2019 کے مقابلے میں 9 گُنا اضافہ ہوا۔ محکمہ نیو یارک پولیس میں نفرت اور شدت پسندی پر مبنی جرائم کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والے سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ایسے جرائم میں گرفتار ہونے والے 20 افراد میں سے صرف دو سفید فام، جبکہ گیارہ افریقی النسل امریکی، چھ سفید فام ہسپانوی اور ایک سیاہ فام ہیں ۔

یاد رہے کہ امریکہ میں ایشیائی امریکی طبی عملہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم خدمات انجام دے رہا ہے اور دوسرے امریکی طبی ماہرین کی طرح ان کے لیے بھی اس عالمی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں گزشتہ سال بہت مصروف اور محنت طلب رہا ہے۔

پہلی مرتبہ مجھے مہارت کے بجائے میری شخصیت کے ظاہری پن سے جانچا گیا، یہ تجربہ نا خوشگوار تھا

کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والے تائیوانی امریکی ڈاکٹر آسٹن چیانگ کہتے ہیں کہ انہیں پچھلے سال وبا کے مسئلہ اور نسلی بنیادوں پر ملے جلے ردِ عمل کا سامنا رہا۔ اور یہ سال اس سے پہلے کے برسوں سے بہت مختلف تھا۔

امریکہ کی 16 سب سے زیادہ گنجان آباد ریاستوں میں سن 2020 میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف حملوں میں 150 فیصد اضافہ ہوا۔

کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے نفرت اور انتہا پسندی پر تحقیق کے مرکز کے اعداد و شمار نے تائیوانی نژاد امریکی ڈاکٹر چیانگ کے لیے پچھلے سال کو سوچ و فکر کا سال بنا دیا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والے مرض کووڈ 19 کا پہلا کیس چین کے صوبے ووہان میں 2019 کے آخر میں دریافت ہوا تھا۔ جس کے بعد یہ وائرس دنیا میں پھیل کر عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا اور اب تک اس سے امریکہ میں 538،000 افراد اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں۔ امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وائرس نے امریکہ میں اب تک تین کروڑ سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔

اٹلانٹا میں ایشیائی امریکیوں ہلاکتوں کے بعد ایک مظاہرے کے شرکا
اٹلانٹا میں ایشیائی امریکیوں ہلاکتوں کے بعد ایک مظاہرے کے شرکا

ڈاکٹر چیانگ نے کولمبیا یونیورسٹی سے ایم ڈی اور ہارورڈ یونیورسٹی سے صحت عامہ کی اعلی تعلیم حاصل کی ہے۔

کووڈ 19 سے جڑے ہوئے حالات کے علاوہ گزشتہ سال افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت اور بلیک لائیوز میٹر تحریک کے منظر پر آنے سے بھی ڈاکٹر چیانگ کو اس سوچ کی طرف مائل کیا کہ وہ کام کرنے کے جگہ پر مساوات کو اہمیت دیں تا کہ تمام کارکنوں کو محسوس ہو کہ ان سے منصفانہ سلوک ہو رہا ہے اور ان کی مناسب شنوائی ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر چیانگ نے وائس آف امریکہ کی مینڈیرین سروس کو بتایا کہ یہ تجربہ ان کے لیے ناخوشگوار اور کٹھن رہا ہے کہ انہیں ان کی مہارت کی بجائے ان کی شخصیت کے ظاہری پن سے جانچا جا رہا ہے اور یہ ایسی بات ہے جس نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

صحت عامہ سے وابستہ کئی ایشیائی امریکی نرسوں اور طبی ماہرین کا دعوی ہے کہ انہیں بھی ایسے رویوں کا سامنا رہا۔

تاہم تاریخی اعتبار سے نیو یارک شہر میں گرفتاریوں کا ڈیٹا اس حساس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بتاتا ہے کہ ایشیائی امریکی برادری پر ہونے والے حملوں کے زمہ دار افراد اکثرغیر سفید فام امریکی تھے۔

نفرت پر مبنی جرائم پر دو کتابوں کے مصنف اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر جیک مک ڈیوِٹ نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سے بہت کچھ اخذ نہیں کرنا چاہئیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کسی بھی سال میں کسی ایک علاقے میں، کسی ایک برادری کے خلاف، پولیس کو رپورٹ ہوئے نفرت پر مبنی جرائم کے ڈیٹا کو قومی سطح پر دیکھا جاتا ہے تو اس میں خلاف معمول اعداد و شمار نظر آتے ہیں، کیونکہ بہت سے جرائم پولیس کو رپورٹ ہوئے ہی نہیں تھے۔ تاہم مک ڈیوٹ کہتے ہیں کہ "دیگر برادریوں نے بھی خود پر ہونے والے حملوں کو اسی انداز سے جانچنے کی کوشش کی ہے، جس انداز سے ہماری سفید فام برادری ایک عرصے سے کرتی چلی آرہی ہے"۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنی آبادی کے تناسب کے مقابلے براعظم ایشیا سے آئے لوگ امریکہ کے صحت عامہ کے شعبہ میں کہیں زیادہ تعداد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

"مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ" اور امریکی محکمہ مردم شماری کے مطابق امریکہ میں اس وقت صحت عامہ کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنان میں چالیس فیصد کا تعلق ایشیا سے ہے۔

امریکہ کی کل آبادی میں ہر 18 نفوس میں سے ایک کا تعلق ایشیا سے ہے جب کہ صحت عامہ کے شعبہ میں کام کرنے والے ہر 14 میں سے ایک طبی اہلکار کا تعلق ایشیا سے ہے۔

XS
SM
MD
LG