رسائی کے لنکس

افغانستان میں طالبان کارروائیوں سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل متاثر ہو سکتا ہے؟


افغان صوبے قندوز میں سیکیورٹی اہل کار طالبان سے مقابلے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ 22 جون 2021

افغان سیکیورٹی عہدے داروں نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے طالبان سے ایسے کئی علاقے واپس لے لیے ہیں، جن پر انہوں نے حالیہ دنوں میں قبضہ کر لیا تھا۔ایسا اس وقت ہو رہا ہے، جب افغانستان میں 20 سال سے موجود امریکی اور نیٹو افواج گیارہ ستمبر سے قبل اپنی واپسی کا مرحلہ مکمل کر رہی ہیں۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے ایاز گل کی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے مئی کے شروع میں غیر ملکی افواج کی واپسی شروع ہونے کے بعد سے ڈرامائی انداز میں پیش قدمی کی ہے اور افغانستان کی سرکاری فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہوئے تقریباً 60 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی معاونت کے مشن یو این اے ایم اے کی خصوصی نمائندہ ڈیبورا لیانز نے کہا ہے کہ طالبان نے جن اضلاع پر قبضہ کیا ہے ان میں سے زیادہ صوبائی دارالحکومتوں کے اردگرد واقع ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان صوبائی صدر مقامات کے گرد اپنی موجودگی مستحکم بنا رہے ہیں تاکہ غیرملکی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد وہ ان پر قبضہ کر سکیں۔

طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔
طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔

طالبان کی تیز فتوحات سے اس خدشے میں اضافہ ہوتا ہے کہ 11 ستمبر کو افغانستان سے غیر ملکی فورسز کی روانگی مکمل ہو جانے کے بعد وہ دوبارہ اقتدار پر قابض ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن نے پیر کے روز ایک بار پھر یہ اعادہ کیا ہے کہ امریکہ، صدر بائیڈن کے منصوبے مطابق افغانستان سے اپنی تمام فورسز مقررہ وقت میں نکال لے گا۔

پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم مقررہ نظام الاوقات کے مطابق ستمبر کے شروع میں اپنے تمام فوجی افغانستان سے نکال لیں گے ماسوائے ان کے جو وہاں سفارتی موجودگی کے تحفظ کے لیے درکار ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے پریس سیکرٹری کربی نے کہا تھا کہ فوج افغانستان کی صورت حال پر مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور صورت حال کے مطابق انخلا کی سطح اور رفتار میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کئی آپشنز پر غور کر رہے ہیں، لیکن مجھے ان کے متعلق کچھ بتانے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم ایک چیز واضح ہے کہ انخلا مکمل ہو جانے کے بعد افغان فورسز کے لیے ہماری زیادہ تر مدد مالی معاونت ہی ہو گی۔

افغان حکام نے منگل کے روز بتایا کہ سرکاری سیکیورٹی فورسز نے ملک کے شمال اور شمال مشرقی صوبوں بلخ، بغلان اور قندوز میں رات بھر جاری رہنے والی لڑائیوں کے بعد کئی اضلاع کا کنٹرول طالبان سے واپس لے لیا ہے۔

جب کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکومت کے دعوؤں کو پراپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

افغانستان کی صورت حال کے باعث کسی بھی جانب کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرانا ممکن نہیں ہے۔

افغانستان کے 34 صوبوں کے 407 اضلاع میں سے نصف پر یا تو طالبان کا قبضہ ہے یا وہ ان کے زیر اثر ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی اور قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ جمعے کے روز واشنگٹن میں صدر بائیڈن سے ایک اہم ملاقات کرنے والے ہیں۔

جبکہ سابق افغان صدر حامد کرزائی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ناکام ہو گیا ہے اور افغانستان کے مفاد میں ہے کہ غیر ملکی افواج وہاں سے نکل جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG