رسائی کے لنکس

امریکہ میں نوکریاں ہی نوکریاں، 'ٹین ایجرز' بھی 'کماؤ پُوت' بن گئے


کرونا کی وجہ سے بند ریستوران، شاپنگ مالز، امیوزمنٹ پارکس اور دیگر ریٹل اسٹور دوبارہ کھولے جا رہے ہیں اور ایسے میں روز گار کے مواقعوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکہ میں ان دنوں کاروبار اور دیگر تفریحی مقامات کھلنے کے باعث ورکرز کی شدید کمی ہے جسے پورا کرنے کے لیے امریکی نوجوان میدان میں آ گئے ہیں۔

امریکہ کے کئی کاروباری مراکز، تفریحی پارکس اور ریستورانوں میں 'ٹین ایجرز' لڑکے، لڑکیاں کام کر رہے ہیں جنہوں نے ورکرز کے متلاشی کاروباری افراد کی مشکلات آسان کر دی ہیں۔

امریکہ میں بڑے پیمانے پر جاری ویکسی نیشن مہم کے باعث حکومت نے بہت سے کاروبار کھولنے کے علاوہ تفریحی سرگرمیاں بھی بحال کر دی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ میں روزگار کے کئی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

کرونا کی وجہ سے بند ریستوران، شاپنگ مالز، تفریحی پارکس اور دیگر کاروبار اب دوبارہ کھولے جا رہے ہیں اور یہاں اب بڑی تعداد میں 'ٹین ایجرز' کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق امریکہ میں ریستوران، پارکس اور دیگر جگہوں پر نوکری میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو ایک گھنٹے کام کرنے کے عوض 15، 17 یا اس سے زائد ڈالرز کی رقم جب کہ کچھ جگہوں پر اسکولوں کی فیس بھرنے میں مدد کے لیے بونس بھی دیا جا رہا ہے۔

امریکہ میں 2007 سے 2009 کے دوران کساد بازاری کے دور میں بڑی عمر کے ورکرز ریستوران، پارکس اور دیگر مقامات پر کام کرتے دکھائی دیتے تھے، تاہم اس بار نوجوان ایسی ملازمتیں کر رہے ہیں۔

امریکی شہر سان فرانسسکو میں بھارتی اسٹریٹ فوڈ ریستوران ’کری اپ ناؤ‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آکاش کپور کا کہنا ہے کہ "ہم شکر ادا کر رہے ہیں کہ یہ نوجوان ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں۔"

سان فرانسسکو کے پانچ مقامات پر موجود فوڈ کمپنی 'کری اپ ناؤ' میں رواں برس موسمِ گرما میں 50 نوجوان کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس یہ تعداد ایک درجن کے قریب تھی۔

کمپنی کے سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ نوجوان نہ ہوتے تو ہم ریستوران نہیں کھول سکتے تھے۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 16 سے 19 برس کی عمر میں کام کرنے کی شرح حالیہ برسوں کے مقابلے میں اب زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں برس مئی میں اس عمر کے 33 فی صد نوجوان ملازمت کر رہے تھے جب کہ یہ شرح 2008 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون میں یہ تعداد کم ہو کر 32 فی صد ہو گئی جو کہ گزشتہ برس وبا سے قبل کی تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور کے ایک اطالوی ریستوران میں 16 برس کے ہیری ہٹل ایک گھنٹے میں کام کرنے کا بشمول ٹپ 22 اعشاریہ 50 ڈالرز معاوضہ لیتے ہیں۔

آن لائن نوکری کی سائٹ 'اسنیگا جاب' کے سی ای او میتھیو اسٹیونسن کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ نوجوان ہیں اور نوکری کرنے کے خواہاں ہیں تو آپ کے پاس یہ بہترین موقع ہے۔‘

موسمِ گرما میں نوجوانوں کی ملازمتوں سے متعلق سالانہ پیش گوئی کرنے والے امریکہ کی ڈریکسل یونی ورسٹی کے سینٹر فار لیبر مارکیٹ اینڈ پالیسی کے محققین نیتا فاگ، پال ہیرنگٹن اور ایشور کھاٹی واڈا کے نتائج کی غور کریں تو رواں برس موسمِ گرما، لائف گارڈز، سیلز کلرک اور ایسی دیگر ملازمتیں کرنے والے نوجواںوں کے لیے بہترین ثابت ہو گا۔

محققین کی پیش گوئی کے مطابق رواں برس 16 سے 19 برس کے 31 اعشاریہ پانچ فی صد نوجوانوں کے پاس نوکریاں ہوں گی جب کہ گزشتہ برس یہ شرح 26 فی صد تھی۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بے روزگار افراد کو مراعات دینے کی وجہ سے بالغ شہری ملازمتوں کے حصول کے لیے زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG