رسائی کے لنکس

'عالمی وبا کے نام پر ڈکٹیٹرشپ قبول نہیں' برسلز اور واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے


برسلز میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے کرونا وائرس کے سلسلے میں عائد پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا جس میں دیگر یورپی ملکوں سے آنے والے مظاہرین نے بھی حصہ کیا۔

ایسے میں جب یورپ ، امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتیوں عالمی وبا کووڈ نائنٹین اور اس کی تازہ ترین قسم اومیکرون پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں، یورپ کے اہم شہر برسلز اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ویکسینیشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔

برسلز میں میں پولیس نے کووڈ 19 ویکسینیشن اور پابندیوں کے خلاف اتوار کو مظاہرہ کرنے والے لگ بھگ پچاس ہزار مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے واٹر گن کا استعمال کیا ہے یعنی تیز دھار پانی پھینکا ہے ا ور آنسو گیس استعمال کی ہے۔

مظاہرین میں سے کچھ فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک سے آئے تھےاور وہ یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر کی حیثیت رکھنے والے شہر میں مارچ کرتے ہوئے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔

ویڈیوز میں کچھ سیاہ پوش مظاہرین کو یورپی یونین کی سفارتی سروسز انجام دینے والوں کے زیر استعمال عمارت پر حملہ کرتے ہوئے اور اس کے داخلی دروازے پر آتش گیر گولے پھینکتے اور کھڑکیوں کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

بارسلونا میں پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کر رہی ہے۔
بارسلونا میں پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کر رہی ہے۔

حکومتوں نے یہ پابندیاں اومیکرون کیسز میں ہر روز ہونے والوں اضافوں اور اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں عائد کی ہیں۔

کرونا وائرس سے منسلک پابندیوں کے خلاف یورپ بھر میں مظاہرے

بارسلونا کے اس بڑے مظاہرے سے قبل ہفتے کے روز یورپی یونین میں شامل اکثر ممالک کے دارالحکومتوں میں بھی کووڈ۔19 کے سلسلے میں عائد پابندیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

مظاہروں کے دوران احتجاج کے منتظمین لاؤڈ سپیکروں پر لوگوں کو آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اپنے حقوق کے حصول سے پیچھے مت ہٹو۔

بارسلونا کے مرکزی حصے میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ 'عالمی وبا کے نام پر ڈکٹیٹرشپ مسلط کر دی گئی ہے'۔

مظاہرہ کرنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ویکسین لگوانے کے خلاف ہیں یا وہ اس چیز سے انکار کرتے ہیں کہ کرونا وائرس انتہائی ہلاکت خیز ہے۔

برسلز میں ہنگاموں پر کنٹرول کرنے والے پولیس یونٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے 70 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے 12 مظاہرین اور تین پولیس اہل کاروں کو علاج معالجے کے اسپتال بھیجا گیا۔

یورپی ممالک میں ویکسی نیشن کی شرح نمایاں طور پر بلند

بیلجیئم کی 77 فی صد کے قریب آبادی کو ویکسین کے کورس کی تمام خوراکیں دی جا چکی ہیں جب کہ 53 فی صد شہری بوسٹر خوراک بھی لگوا چکے ہیں۔ بیلجیئم میں عالمی وبا کے باعث 28 ہزار سات سو اموات ہو چکی ہیں۔

یورپی یونین کے ایک اور ملک سپین کی آبادی چار کروڑ 70 لاکھ ہے جب کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس ملک میں 90 لاکھ سے زیادہ افراد کووڈ میں مبتلا ہو چکے ہیں، دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں کرونا کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

کرونا کی پابندیوں کے باعث نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی اپنی شادی ملتوی

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ملک میں کروناوائرس کے سلسلے میں عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے اپنی شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جیسنڈا آرڈن نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں کرونا کے اومیکرون ویریئنٹ کے پھیلاؤ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں کرونا سے بچاؤ کے سلسلے میں عائد ویکسین لگوانے اور ماسک پہننے سمیت دیگر پابندیوں کے خلاف مظاہرہ۔
واشنگٹن ڈی سی میں کرونا سے بچاؤ کے سلسلے میں عائد ویکسین لگوانے اور ماسک پہننے سمیت دیگر پابندیوں کے خلاف مظاہرہ۔

امریکی دارالحکومت میں کرونا پابندیوں کے خلاف بڑا مظاہرہ

واشنگٹن میں ویکسین لگوانے کی لازمی شرط کے مخالف کئی ہزار مظاہرین نے نیشنل مال پر مارچ کیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کی کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننے اور ویکسین لگوانے کی پالیسیوں کے خلاف اتوار کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں مظاہرین نے مال پر ریلی نکالی اور واشنگٹن مانومنٹ اور پھر لنکن میموریل کی طرف مارچ کیا۔

مظاہرین نے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے، جن پر کرونا وائرس کے سلسلے کی پابندیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے 13 جنوری کو اپنے ایک فیصلے میں صدر بائیڈن کی جانب سے بڑے کاروباروں کے ملازمین پر ویکسین لگوانے یا کرونا کا نیگیٹو ٹیسٹ پیش کرنے کی پابندی کا راستہ روک دیا تھا۔

بہت سی امریکی کمپنیوں اور اداروں نے اپنے کارکنوں کو کووڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے چہرے کا ماسک پہننے کی شرط عائد کر دی ہے۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک تہائی امریکی ماسک نہیں پہنتے۔ اسی طرح جن ریاستوں میں ری پبلیکنز کی حکومت ہے، وہاں بھی سرکاری طور پر ماسک پہننا لازمی نہیں ہے۔

کووڈ 19 کی وبا سے امریکہ میں آٹھ لاکھ 60 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔طویل عرصے سے جاری اس عالمی وبائی بیماری کے دوران معیشت کو بری طرح نقصان پہنچ چکا ہے۔ بائیڈن کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اے بی سی ٹی وی چینل کے پروگرام ’دس ویک’ کو بتایا کہ امریکہ میں اومیکرون کے کیسز کی تعداد اب کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔

امریکہ میں جانز ہاپکنز کرونا وائرس ریسورس سینٹر نے اتوار کو اطلاع دی کہ دنیا بھر میں اب تک 35 کروڑ افراد کرونا وائرس کے انفکشین میں مبتلا ہو چکے ہیں جب کہ اموات کی کل تعداد 65 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ مرکز نے کہا کہ اب تک کووڈ سے بچاؤ کے تقریباً دس ارب ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

(خبر کا کچھ مواد اے پی اور رائٹرز سے لیا گیا)

XS
SM
MD
LG