رسائی کے لنکس

ایشیائی امریکی باشندوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ کیوں؟


امریکی رکن کانگریس گریس مینگ نیویارک میں سینیٹ میں اکثریتی لیڈر چک شومر کے ساتھ ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات کے خلاف ایک مظاہرے میں شریک ہیں۔ فوٹو اے پی

امریکہ کے 16 شہروں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں نفرت پر مبنی جرائم میں 164 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس نوعیت کی 95 شکایات پولیس کو درج کرائی گئی ہیں جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 36 تھی۔

نفرت پر مبنی جرائم نیویارک اور لاس اینجلس میں سب سے زیادہ تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم بہت سے امریکی ایشیائی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم صرف کرونا وبا کے دنوں میں ہی سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

کیلی فورنیا سٹیٹ یونیورسٹی میں سینٹر فار دا سٹڈی آف ہیٹ اینڈ ایکسٹریم ازم نے اس مطالعے کا اہتمام کیا تھا۔

وائس آف امریکہ کے لیے الزبتھ لی کی رپورٹ کے مطابق، ایشیائی امریکیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے صدر جو بائیڈن کو فوری طور پر ایک قانون ’کووڈ نائنٹین ہیٹ کرائم ایکٹ‘‘ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ قانون محکمہ انصاف میں ایک فوکل پرسن کے ہونے کا متقاضی ہے، جو نفرت پر مبنی جرم کی شکایت کا سرعت سے جائزہ لے۔ اس قانون میں نسلی تفریق کے خلاف تربیت و تعلیم فراہم کرنے کے گرانٹس بھی فراہم کی گئی ہیں۔

واشنگٹن میں مارچ میں ایشیائی امریکیوں کا احتجاج جس میں وہ نسل پرستی پر مبنی حملوں کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں مارچ میں ایشیائی امریکیوں کا احتجاج جس میں وہ نسل پرستی پر مبنی حملوں کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹیل ڈائپ، کیلی فورنیا کے ایک سابق سیاست دان ہیں۔ وہ ویت نام سے نقل مکانی کر کے امریکہ آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل ملکوں سے بنیادی تعلق رکھنے والوں کے خلاف نسل پرستانہ حملے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

ڈائیپ کا کہنا ہے کہ فرق اب یہ آیا ہے کہ مرکزی دھارے کا میڈیا اور امریکی معاشرہ اب اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا شروع کر رہا ہے۔

’’ میرے خیال میں ٹیکنالوجی اور نگران کیمروں کی وجہ سے ہم بہت سے افسوسناک واقعات دیکھنے کے قابل ہوئے ہیں، جو پچھلے دنوں میں نیویارک اور سان فرانسسکو میں رونما ہوئے۔ لیکن ان واقعات کا دائرہ بہت وسیع نہیں ہے۔ نسل پرستی پر مبنی جرائم والی ادھر ادھر کچھ خاص ’پاکٹس‘ ہیں۔ بعض جگہوں پر واقعات نظر میں آ جاتے ہیں اور بعض جگہوں پر ایسے واقعات کی کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی‘‘۔

بلیک لائیوز میٹر تحریک کی حمایت منفرد انداز میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:54 0:00

ایشیائی امریکیوں کے خلاف حملے ان دنوں میڈیا یا سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ واقعات ان ایشیائی امریکیوں کو بولنے کا حوصلہ دے رہے ہیں جو برسوں ایسے واقعات کا سامنا کرنے کے باوجود خاموش رہے ہیں۔

تھین ھو، کیلی فورنیا کی سیکرامینٹو کاونٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر میں اسسٹنٹ چیف ڈپٹی ہیں۔ وہ بھی اپنے بچپن میں رونما ہونے والا واقعہ بیان کرتے ہیں۔

’’ جب میں جواں سال تھا، میں اور میرا خاندان سین ہوزے میں رہ رہے تھے اور ہم اپنے گھر پر حملے اور ڈکیتی کا شکار ہوئے تھے۔ میرے والدین پولیس کو اس واقعے کی رپورٹ نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کو جوابی حملے کا ڈر تھا۔ ان کو زبان کی مشکل کے سبب بھی تشویش لاحق تھی۔ ‘‘

مسٹر ہو جب 1976 میں ویت نام کے کمیونسٹ کیمپ سے فرار کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہو کر امریکہ آئے تو ان کی عمر اس وقت چار سال تھی۔

’’ میرے والد نے ایک کمیونسٹ آفیسر کی وردی چوری کی تھی اور میری کھلونا بندوق پر کالا پینٹ کر دیا تھا۔ چوری کی وردی اور کھلونا بندوق کے ساتھ میرے والد اس قابل ہوئے تھے کہ وہ ہمیں فوجی چوکیوں سے نکال کر سمندر تک لے آئے‘‘

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے اندر موجود ایشیائی کمیونیٹی کو اب بھی ایشیائی ملکوں میں جابر حکومتوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے خلاف یہاں ہونے والے جرائم کو عام طور پر رپورٹ نہیں کرتے۔

لیکن اب بہت سے ایشیائی امریکی نسلی امتیاز کے واقعات کی بڑی تعداد میں شکایات درج کرا رہے ہیں۔ مارچ 2020 کے بعد سے اب تک ’ سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ‘‘ ویب سائٹ پر، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ایشیائی امریکیوں کے خلاف نسلی حملوں کے 6600 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ادارے کی مئی میں آنے والی قومی رپورٹ کے مطابق نسلی حملوں میں پینسٹھ فیصد زبانی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ ایشیائی امریکیوں سے شعوری طور پر گریز کے اٹھارہ فیصد، جسمانی حملے کے بارہ فیصد واقعات رپورٹ ہوئے جو ایشیائی امریکیوں کے خلاف متعصبانہ رویے کے غماز ہیں۔ ’سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ‘ پر رپورٹ میں نفرت پرمبنی دیگر جرائم میں کام کی جگہ پر امتیازی سلوک اور آن لائن ہراسان کیا جانا شامل ہے۔

تنظیم نے بتایا ہے کہ جو شکایات سامنے آئی ہیں ان میں سے 65 فیصد خواتین کی طرف سے آئی ہیں۔ تقریبا 44 فیصد میں چینی امریکیوں کو نفرت پر مبنی جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر ایشیائی افراد جن کو نفرت پر مبنی جرائم کا سامنا کرنا پڑا ان میں کوریا، فلپائن اور ویت نام سے بنیادی تعلق رکھنے والے ایشیائی امریکی شامل ہیں۔

بہت سے ایشیائی امریکی نسل پرستی پر مبنی حملوں میں اضافے کا الزام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان نعروں پر عائد کرتے ہیں جن میں کووڈ نائنٹین کو چینی وائرس قرار دینا بھی شامل ہے۔ کرونا کی عالمی وبا کا سبب بننے والا وائرس سب سے پہلے چین کے وسطی شہر ووہان میں 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا۔

پینسلوانیا میں سینٹ فرانسس یونیورسٹی میں سوشیالوجی اور کرمنل جسٹس کے استاد لیننگ ژانگ کہتے ہیں کہ اگر سماجی اور سیاسی ماحول ایسا ہو تو اس طرح کے نفرت پر مبنی جرائم کے رونما ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

ژوانگ، چینی امریکیوں کی یہاں پانچویں نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے۔ میرے دادا دادی کو انیسویں صدی میں ملیریا، ہیضہ اور جذام کی وبا پھیلانے کے الزام کا سامنا تھا‘‘

کرونا کی عالمی وبا کے دوران چینی امریکی ہی نسل پرستی پر مبنی حملوں پر شکار نہیں ہوئے، بلکہ بحرالکاہل کے دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کو بھی ایسے جرائم کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ امریکہ کے اندر نظر آنے والے ایشیائی باشندوں کو ایک بڑے گروپ کا ہی حصہ سمجھتے ہیں۔

’سٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ‘ کو ملنے والی رپورٹوں کے تجزیے سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ کے اندر کم آمدن والے ایشیائی امریکی زیادہ تعداد میں ہیٹ کرائم کا شکار ہوئے۔

ژوانگ کا کہنا ہے کہ ایشیائی امریکی جو خطرناک علاقوں میں رہتے ہیں، ان کو اس طرح کے حملوں کا سامنا ہونے کے زیادہ امکانات ہیں‘‘

مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں کسی بھی دوسرے نسلی گروپ کی نسبت ایشیائی امریکیوں کو ہدف بنائے جانے کا زیادہ امکان ہے اور یہ شرح ہسپانوی اور افریقی امریکیوں یعنی سیاہ فاموں کی نسبت بھی زیادہ ہے۔

ژوانگ کے مطابق قومی سطح پر جائزہ لیا جائے تو ایشیائی امریکیوں کے خلاف 25 فیصد جرائم میں سفید فام ملوث تھے۔

ایشیائی امریکی نفرت پر مبنی ان واقعات اور جرائم کی مماثلت سیاہ فام لوگوں کے خلاف جرائم سے دیکھتے ہیں اور انہوں نے بھی ’’ بلیک لائیوز میٹر‘ نامی تحریک کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ کے اندر مظاہرے کیے ہیں۔

ژانگ کا کہنا ہے بلیک لائیوز میٹر میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا کی توجہ نے لوگوں کو متاثر کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ کس طرح کھڑا ہونا اور مل کر آواز بلند کرنا ہے۔

بہت سے ایشیائی امریکی کہتے ہیں کہ ہیٹ کرائم سے متعلق نیا قانون اس طرح کے جرائم کے خاتمے میں پہلا قدم ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG