رسائی کے لنکس

امریکی پولیس پر ذہنی امراض کا شکار افراد سے نمٹنے کی تربیت دینے کے لیے زور


فائل فوٹو

امریکہ میں جہاں ایک سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک شوین کے خلاف گزشتہ مئی میں ریاست منی سوٹا میں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے الزام میں مقدمے کی کارروائی جا ری ہے، وہیں آٹھ ریاستوں میں ایسی قانون سازی متعارف کروانے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پولیس کو یہ تربیت دی جائے گی کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے ساتھ کسی بھی کیس کے سلسلے میں ہونے والے رابطے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ اقدام گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ذہنی امراض سے متاثرہ چند اہم اور مشہور شخصیات کی پولیس کیسز میں ہلاکتوں کے بعد کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے کیسز کے بعد ہونے والی عوامی تنقید کے بعد قانون سازوں کی جانب سے عموماً ایسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے۔ لیکن اصل سوال وہیں موجود رہتا ہے، کہ کیا پولیس کو ذہنی طور پر بیمار افراد کی مدد کے لیے جانا چاہئے؟

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پولیس نے رواں برس فروری کی 11 تاریخ کو ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے، جس میں دوسرے امور کے علاوہ پولیس افسران کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ذہنی صحت، سماجی خدمات اور نفسیات سے متعلق کالج کے کورسز مکمل کریں گے۔ اس کے لیے انہیں ڈگری لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

نیویارک میں اس سال جنوری میں ایسی ہی ایک تجویز پیش کی گئی جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کالج کے 32 کریڈٹ آور کے برابر تربیت مکمل کرنی ہو گی جس میں انہیں ان طریقہ کار کے بارے میں پڑھایا جائے گا جس کے ذریعے ذہنی مسائل کا شکار افراد کے ساتھ معاملہ کرنا یا نمٹنا سکھایا جائے گا۔

پچھلے سال نیویارک کے علاقے روچسٹر میں پولیس افسران نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 911 پر ایک فون کال کا جواب دیتے ہوئے سیاہ فام شخص ڈینئیل پروڈ کے منہ کو مبینہ طور پر باندھ کر ان کے برہنہ جسم کو سڑک پر مسلسل سختی سے لٹائے رکھا، یہاں تک کہ سانس بند ہونے سے ان کی ہلاکت ہو گئی۔

ایسے ہی امریکی ریاست یوٹاہ میں تیرہ برس کے لنڈن کیمرون کی والدہ نے پچھلے برس ستمبر میں 911 پر کال کی، کیوں کہ لنڈن ذہنی امراض کی وجہ سے اختیار کھونے لگے تھے۔ اس کال کے جواب میں آنے والی پولیس افسران سے جب لنڈن بھاگ رہے تھے تو انہیں پولیس نے گولیاں مار کر کے ہلاک کر دیا۔ پولیس کا موقف تھا کہ لنڈن نے ہتھیار کے استعمال کے ساتھ انہیں دھمکایا تھا۔

لنڈن کو جب ہسپتال لے جایا گیا تو ان کے پاس سے کوئی ہتھیار نہیں ملا تھا۔ پولیس اہلکار ایسے موقع پر مناسب ردعمل کے متعلق کوئی تربیت یا مہارت کے حامل نہیں تھے، لیکن انہیں ذہنی امراض سے متعلق تربیت دی گئی تھی۔

پچھلے مہینے ریاست یوٹاہ کے گورنر سپینسر کوکس نے ایک نیا قانون متعارف کروایا ہے، جس کے تحت ایک کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو شدید ذہنی مسائل کا شکار افراد سے نمٹنے والی پولیس کی ٹیموں کی تربیت پر کام کرے گی۔

امریکہ میں اس سے پہلے 34 ریاستوں میں پولیس کو ایسی تربیت دی جا رہی ہے، جس میں انہیں جسمانی یا ذہنی مسائل کا شکار افراد سے رابطہ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی ٹریننگ میں بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

ایک نجی ادارے ٹریٹمنٹ ایڈووکیسی سینٹر کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق ایسے ذہنی مریضوں کی، جنہیں علاج کی کوئی سہولت میسر نہ ہو، پولیس سے کسی بھی امکانی رابطے کے دوران ہلاکت کا امکان، دیگر کسی کیس میں ملوث افراد کے مقابلے میں 16 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک، الیزبتھ سنکلئیر ہانک کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا سب سے زیادر موثر حل تو یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ذہنی امراض کا شکار افراد کا سامنا ہو ہی ناں۔لیکن چونکہ ایسا ہونا ہمیشہ ممکن نہیں ہے،اس لئے، ایڈووکیسی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق، ان سے نمٹنے کے دوران، پولیس کے ساتھ سماجی کارکن، یا ذہنی صحت کے ماہرین کا موجود ہونا لازمی ہونا چاہئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG