رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے وہ پانچ ٹاکرے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے


کرکٹ کے روایتی حریف ٹیمیں پاکستان اور بھارت لگ بھگ دو برس بعد دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک مرتبہ پھر مدِ مقابل ہوں گی۔ کرکٹ شائقین کو اس میچ کا بے صبری سے انتظار ہے۔

دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2019 میں کرکٹ کے عالمی میلے میں ٹکرائی تھیں اور اس میچ میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان اب میچز میں کامیابی و ناکامی کے ریکارڈ کو دیکھا جائے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 50 اوورز کے ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت کو پاکستان پر برتری حاصل ہے۔

اب تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چھ ایڈیشن ہو چکے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پانچ مرتبہ مدِ مقابل آئیں جس میں سے بھارت نے چار میچز جیتے اور ایک میچ برابر رہا۔

اسی طرح ایک روزہ میچز کے ورلڈکپ مقابلوں میں دونوں ٹیمیں سات مرتبہ آمنے سامنے آئیں اور تمام میچز بھارت کے نام رہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان ہار اور جیت کسی بھی ٹیم کی ہو لیکن ان کے درمیان کھیلا جانے والا ہر میچ ہی سنسنی سے بھرپور ہوتا ہے لیکن چند میچز ایسے ہیں جنہیں شائقین شاید کبھی بھول نہیں سکیں گے۔

1۔ ایشیا کپ فائنل [18 اپریل 1986]

جاوید میانداد کے آخری گیند پر چھکا کسے یاد نہیں ہو گا۔ 18 اپریل 1986 کو شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں آسٹرل ایشیا کپ کا فائنل جیتنے کے لیے پاکستان کو 246 رنز کا ہدف ملا تھا اور جاوید میانداد اس وقت کریز پر آئے جب پاکستان کے تین کھلاڑی صرف 61 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔

جاوید میانداد نے اس میچ میں 114 گیندوں پر 116 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ جیتنے کے لیے ایک گیند پر چار رنز درکار تھے اور بھارتی بالر چیتن شرما نے آخری گیند فل ٹاس کرائی جس پر جاوید میانداد نے زور دار ہٹ لگا کر گیند کو باؤنڈری کے پار کیا اور اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی۔

اس جیت کے ساتھ ہی تماشائیوں کا بپھرا ہوا ہجوم باؤنڈری لائن کے اندر دوڑا اور بھارتی شائقین کے دل ٹوٹ گئے۔

2۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ڈیبیو ٹاکرا

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا پہلا ایڈیشن 2007 میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا۔

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اس ایونٹ میں آمنے سامنے آئیں تو یہ میچ برابری پر ختم ہوا۔

بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 141 رنز بنائے اور پاکستان ٹیم بھی مقررہ اوورز میں اتنے ہی رنز بنا سکی۔

اس زمانے میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میچ ٹائی ہونے کی صورت میں اس کا فیصلہ سپر اوور کے بجائے بول آؤٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ یعنی دونوں ٹیموں کے پانچ پانچ بالرز کو وکٹ پر گیند مارنا ہوتی تھی اور وہی ٹیم فاتح قرار پاتی تھی جو زیادہ مرتبہ بیلز گرانے میں کامیاب ہوجاتی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس میچ میں دونوں ٹیموں کو بال آؤٹ کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔

بھارتی بالرز تین مرتبہ وکٹ پر گیند مارنے میں کامیاب رہے اور پاکستان کے کسی بھی بالر کی پھینکی گئی گیند وکٹ پر نہ لگ سکی۔ اس طرح بھارتی ٹیم فاتح قرار پائی۔

3۔ ورلڈکپ 2007 فائنل

بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں محدود اوور کی طرز کی کرکٹ ورلڈ کپ میں 2007 میں 10 روز بعد ایک مرتبہ پھر مدِ مقابل آئیں اور اس بار یہ میچ ایونٹ کا فیصلہ کن مقابلہ تھا۔

بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 157 رنز بنائے۔

پاکستان کو فائنل میچ جیتنے کے لیے بظاہر ایک آسان ہدف ملا لیکن پاکستانی ٹیم بیٹنگ کرتے ہوئے دباؤ کا شکار رہی۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی گئیں اور ایک موقع پر سات کھلاڑی 105 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے تو پاکستان پر شکست کے بادل منڈلانے لگے۔

چھٹے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے مصباح الحق محتاط انداز اپناتے ہوئے وکٹ بچانے کی کوشش میں لگے رہے اور وہ میچ کو آخری اوور تک لے گئے۔

سنسنی سے بھرپور اس میچ میں پاکستان کو جیت کے لیے ایک اوور میں 13 رنز اور بھارت کو ایک وکٹ درکار تھی۔

مصباح نے جوگندر شرما کی دوسری گیند پر چھکا لگایا جس کے بعد میچ میں مزید سنسنی پیدا ہو گئی۔ البتہ مصباح نے اگلی ہی گیند پر شارٹ فائن لیگ پر اپنا پسندیدہ شارٹ اسکوپ مارا اور گیند وہاں کھڑے فیلڈر سری سانتھ کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ اور پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت نے اپنے نام کر لیا۔

4۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بھارت کے خلاف پاکستان کی پہلی کامیابی

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھارت کے خلاف پہلی مرتبہ 25 دسمبر 2012 کو کامیابی حاصل کی۔

دورہٴ بھارت کے موقع پر دونوں ٹیموں کے درمیان دو میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گئی اور سیریز کا پہلا میچ کپتان محمد حفیظ کی شاندار کارکردگی کی بدولت گرین شرٹس میچ جیتنے میں کامیاب رہے۔

بھارت نے پہلے بیٹنگ کی اور پاکستان کو جیت کے لیے 134 رنز کا ہدف دیا۔ البتہ پاکستان کے اوپننگ بلے باز کچھ نہ کر سکے اور ابتدائی تین بلے باز 12 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

چوتھی وکٹ پر کپتان محمد حفیظ اور شعیب ملک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 105 رنز کی شراکت قائم کی۔

محمد حفیظ کے 44 گیندوں پر 61 رنز نے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا جب کہ ان کا ساتھ دینے والے شعیب ملک نے 57 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

پاکستان نے یہ میچ دو گیندیں قبل اپنے نام کیا لیکن بھارت کو پاکستان کے خلاف محدود اوورز کی کرکٹ میں اب بھی ایک کے مقابلے میں سات میچز کی کامیابی سے برتری حاصل ہے۔

5۔ چیمپئنز ٹرافی 2017 کا فائنل

سال 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 10 برس بعد آئی سی سی کے کسی بڑے ایونٹ کے فائنل میں دوسری مرتبہ مدِ مقابل آئیں۔

لندن میں 18 جون 2017 کو کھیلا جانے والا چیمپئنز ٹرافی کا فائنل آج بھی سب کو یاد ہو گا۔

اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی اور فخر زمان کی دھواں دھار بیٹنگ اور سینچری کی بدولت 338 رنز بنائے۔

فخر نے بھارتی بالنگ اٹیک میں شامل بھونیشور کمار اور جیسپرت بھمرا کو 12 چوکے اور تین چھکے لگائے۔ انہوں نے 106 گیندوں پر 114 رنز کی اننگز کھیلی۔

ویرات کوہلی کی قیادت میں بھارتی بیٹنگ لائن پاکستانی بالرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پانچ بیٹسمین ڈبل فیگر میں بھی شامل نہ ہو سکے اور پوری ٹیم 158 رنز پر ڈھیر ہوئی۔

بھارت کی جانب سے ہاردک پانڈیا 76 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔ البتہ یہ ٹرافی پاکستان کے نام رہی۔

اس میچ میں بہترین کارکردگی پر فخر زمان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور فخر زمان اس بار بھی پاکستانی اسکواڈ میں شامل ہیں اور انہیں بھارت کے خلاف 24 اکتوبر کو کھیلے جانے والے میچ میں موقع دیے جانے کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG