رسائی کے لنکس

خدمت نہیں کی تو اگلی بار کوئی ووٹ نہیں دے گا: نیو جرسی اسمبلی کی مسلمان رکن شمع حیدر


شمع حیدر

گیارہ ستمبر 2001 کی صبح 28 سالہ راحمہ سالی اپنے شوہر کے ساتھ امیریکن ائیرلائنز کی پرواز 11 میں بیوسٹن سے سوار ہوئیں۔ ان کے شوہر تقریباً ڈھائی سال قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔ دہشت گردوں نے یہ جہاز نیویارک شہر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی شمالی عمارت سے ٹکرا دیا۔ اس بدقسمت فلائٹ میں سات ماہ کی حاملہ راحمہ سمیت بانوے مسافر سوار تھے جو سب کے سب ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب جہازوں کے ٹکرانے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا، ہر طرف گرد و غبار اور چیخ و پکار تھی ایسے میں دردمند دل رکھنے والے نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے تیئیس سالہ فرسٹ رسپانڈر سلمان ہمدانی لوگوں کی مدد کرنے کے جذبے سے سرشار گرتے ہوئے ٹاورز میں پہنچ گئے۔ لوگوں کی جان بچاتے بچاتے سلمان اپنی زندگی گنوا بیٹھے۔

راحمہ اور سلمان کے خاندانوں کے دکھ اس سانحے میں مرنے والوں کے خاندانوں سے کسی صورت کم نہ تھے مگر آنے والے دنوں میں انہوں نے ہمدردی کے دو بول سننے کے بجائے مزید دل دکھانے والی باتیں سنیں۔

اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے بنائے گئے نان پرافٹ ادارے Why Islam سے منسلک صولت پرویز بتاتے ہیں کہ سات ماہ کی حاملہ راحمہ کا نام سانحے کی تفتیش میں شامل کیا گیا۔ تفتیش کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا وہ دہشت گردی کے اس واقعے میں دہشت گردوں کی مددگار تھیں۔ تفتیش کے دوران ان کے خاندان والوں کے نام "نو فلائی لسٹ" پر رہے۔

بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ شمع حیدر کی ایک تصویر (فائل فوٹو)
بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ شمع حیدر کی ایک تصویر (فائل فوٹو)

دوسری جانب سلمان ہمدانی کے والدین کی آنکھیں اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر پرنم تو تھیں مگر دل اس کے قربانی کے جذبے پر فخر سے لبریز بھی تھا۔ مگر ابھی تو چونتیس ٹکڑوں میں بٹی سلمان کی لاش بھی والدین کے حوالے نہیں کی گئی تھی کہ انہوں نے دہشت گردی کی واچ لسٹ میں سلمان کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں دیکھا۔ اخبارات نے سرخیاں لگائیں "گمشدہ یا مطلوب؟'

راحمہ اور سلمان دونوں کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ مسلمان تھے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو کڑے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا، مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ کل تک جو مسلمان امریکہ کی ترقی میں حصہ ڈال رہے تھے آج ان کی وفاداری مشکوک ہو چکی تھی۔ امریکی FBI نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے معمولات کی نگرانی شروع کی، مسلمان علاقوں میں مخبر چھوڑے گئے۔ کیونکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی امریکی تاریخ کا ایسا واقعہ تھا جس کے بعد ملکی سیکیورٹی کے ادارے حفاظت اور تحقیقات میں کسی کوتاہی کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔

اس واقعے کہ کچھ روز بعد دس سالہ شاہانہ حنیف اپنی بہن کے ساتھ بروکلین کی مسجد جا رہی تھیں جب پاس سے گزرتی گاڑی میں ایک شخص نے شیشہ اتار کر ان ننھی بچیوں کو "دہشت گرد" کہا. خوف اور گھبراہٹ میں یہ دونوں بچیاں مسجد کے بجائے واپس گھر کو دوڑ گئیں۔

آج شاہانہ حنیف بروکلین کے اسی علاقے سے نیویارک شہر کی پہلی مسلمان کونسل ممبر منتخب ہوئی ہیں۔

11ستمبر کے بعد آنے والے دنوں میں مسلمانوں نے جان لیا کہ اسلام کے بارے میں بدگمانیاں درست معلومات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اور ملک کے سیاسی منظر نامے میں ان کے حق میں بولنے والا شاید ہی کوئی ہو کیونکہ ان کی نمائندگی کہیں نہیں اور اپنے حقوق کی جنگ انہیں خود ہی لڑنی ہوگی۔

شاہانہ حنیف
شاہانہ حنیف

نیویارک شہر میں ملازمت کرنے والے بہت سے امریکی دریائے ہڈسن کے پار ریاست نیو جرسی میں رہتے ہیں اور سانحہ نائن الیون کے بعد یہاں بھی مسلمانوں نے سخت وقت دیکھا۔ مگر امریکہ میں شہری آزادیوں کا نتیجہ ہے کہ ایک مسلمان کے طور پر اپنی حیثیت منوانے کی جدوجہد جاری رکھنا ممکن ہوا اور حتیٰ کہ مسلمان خواتین نے سیاست میں بھرپور حصہ لیا اوراپنے حلقے میں اپنے لئے حمایت حاصل کی۔

اس سانحے کے بیس سال بعد 11جنوری 2022 کو ریاست کی تاریخ میں پہلی بار دو مسلمان خواتین ریاستی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گی اور مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی خواتین پاکستانی نژاد ہیں۔

بہتر سالہ شمع حیدر پاکستان میں پیدا ہوئیں اور نوجوانی کے زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں بیگم نصرت بھٹو کی ذاتی سیکریٹری کی حیثیت میں کام کیا۔ شادی کے بعد امریکہ منتقل ہونے کے بعد اپنے بچوں کے اسکول سے والدین کی منتخب کونسل میں شامل ہو کر نچلی سطح سے امریکی سیاست کے دھارے میں شامل ہوئیں۔

وائس آف امریکہ کے ڈیجیٹل شو 'ع-مطابق' میں اس ہفتے شمع حیدر نے اپنی سیاست اور خواتین کی صورتحال کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی جو آپ اس صفحے سمیت وائس آف امریکہ اردو کے فیس بک صفحے اور یو ٹیوب چینل پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ہفتہ وار شو ع۔مطابق، ہر پیر کی شب پاکستان مین رات نو اور بھارت میں ساڑھے نو بجے وائس آف امریکہ اردو کے فیس بک اور یو ٹیوب چینل پر پیش کیا جاتا ہے

نیوجرسی کی اسمبلی میں منتخب ہو کر پہنچنے والی دوسری مسلمان رکن صدف جعفر ہیں۔ اڑتیس سالہ صدف جعفر امریکہ میں ہی پلی بڑھی ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق کراچی کی خوجہ برادری سے ہے جبکہ ان کا ددھیال طویل عرصے تک یمن میں مقیم رہا ہے مگر ان کا تعلق بھی ہندوستان کے علاقے کچھ سے ہے۔ ان کے گھر میں انہیں اردو اور کچھ کی بولی سکھائی گئی۔

شمع حیدر کے مطابق بلاشبہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے لئے زندگی مشکل ہوئی مگر اسی سال ان کا اپنے شہر ٹینافلائی کی کونسل میں منتخب ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شہر کے لوگوں نے ان کے مذہب کے بجائے ان کے کام اور ان کے سیاسی نظریے کو ترجیح دی۔

سوال یہ ہے کہ کم تعداد میں ہی صحیح امریکی کانگریس اور ریاستی اسمبلیوں تک مسلمانوں کے پہنچنے کا کیا یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں شہری حقوق مذہبی بنیاد پر متاثر نہیں ہو سکتے۔

صدف جعفر
صدف جعفر

مسلمان رکن صدف جعفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ میں اس وقت دو ٹرینڈز دیکھے جارہے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اسلاموفوبیا قطعی ختم نہیں ہوا اور معاشرے میں اسلام کے بارے میں بد گمانیاں اور غلط معلومات اب بھی موجود ہیں مگر ساتھ ہی اک ایسا طبقہ بھی سامنے آیا ہے جو نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا اور اس نظریے پر سیاست کرنے والوں کی مخالفت میں ووٹ ڈالتا ہے، اس کامیابی میں مسلمانوں کی اپنی کوششیں بھی شامل ہیں۔

صدف جعفر کی رائے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بیس سال مکمل ہونے پر ایسوسی ایٹڈ پریس پبلک افئیرز تحقیق کے ادارے NORC کے ایک سروے کے مطابق اب بھی 53 فیصد امریکیوں کی اسلام کے بارے میں رائے منفی ہے جبکہ بیالیس فیصد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت سوچتے ہیں۔

امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے مشیر اظہر ترمزی نے وائس امریکہ کو بتایا کہ نومبر میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں مختلف سطحوں پر تین سو پچاس مسلمانوں نے حصہ لیا۔

یہ مسلمانوں کی جانب سے امریکی سیاست میں فعال ہونے کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کو ریپبلکن رکن لورنز بوبرٹ کی جانب سے دہشتگرد پکارے جانے پر امریکی ایوان نمائندگان نے جواباً الہان عمر کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف پیش کردہ بل منظور کر لیا۔ اس بل کے سینیٹ سے منظور ہونے پر امریکی وزارت خارجہ میں ایک مستقل سفیر کا عہدہ قائم کیا جائے گا جس کا کام ہی دنیا بھر میں اسلام کے خلاف غلط فہمیاں دور کرنا ہوگا۔

صدف جعفر جو اس سے پہلے نیو جرسی کے شہر مونٹگمری کی میئر بھی رہ چکی ہیں اسمبلی پہنچ کر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانا چاہتی ہیں۔ شہریوں کو ذہنی صحت کی سہولتوں کی فراہمی بھی ان کے ایجنڈے پر ہے جبکہ شمع حیدر کی ترجیحات ماحول دوست اقدامات اور ریاست میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ دونوں ہی اراکینِ اسمبلی تسلیم کرتی ہیں کہ انہیں ووٹ ان کے کام پراعتماد کی وجہ سے ملے ہیں اگر انہوں نے عوام کی خدمت نہیں کی تو انہیں دوبارہ نمائندگی کا موقع نہیں ملے گا۔

XS
SM
MD
LG