رسائی کے لنکس

افغانستان کے معاشی بحران سے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو گا، آئی ایم ایف


فائل فوٹو

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے منگل کے روز جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال افغانستان کی معیشت 30 فی صد تک سکڑ جائے گی، جس کے نتیجے میں مہاجرین کا بحران جنم لے گا جو ہمسایہ ملکوں کے علاوہ ترکی اور یورپ کے ممالک پر بری طرح سے اثرانداز ہو گا۔

تازہ ترین علاقائی معاشی صورت حال پر مشتمل اعداد و شمار کے مطابق، جب سے اگست میں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے، بنیادی انسانی امداد کے علاوہ باقی تمام قسم کی اعانت پر روک لگ چکی ہے، ساتھ ہی غیرملکی اثاثے منجمد ہونے کے باعث امداد پر انحصار کرنے والی افغان معیشت کو شدید مالیاتی اور ادائیگیوں کے توازن کی بحرانی صورت حال درپیش ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں معیار زندگی میں آنے والی کمی سے لاکھوں افراد غربت کی سطح کے شکنجے میں جکڑے جا چکے ہیں، اور اس کے باعث انسانی بحران لوگوں کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

اگرچہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ان امکانی اندازوں سے متعلق تفصیل موجود نہیں ہے، تاہم مالیاتی ادارے نے افغانستان کی بگڑتی صورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے معاشی اور سیکیورٹی کی ابتر صورت حال پیدا ہو گی جو خطے اور اس سے باہر کی دنیا کو بری طرح متاثر کرے گی، جس سے افغان تارکین وطن کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق،مہاجرین کی بڑی تعداد کسی ملک میں داخل ہونے کی صورت میں میزبان ملکوں کے وسائل پر بوجھ پڑے گا، دستیاب ملازمتیں کم پڑ جائیں گی اور سماجی کشیدگی بڑھے گی، ایسے حالات میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے اعانت کی سخت ضرورت درپیش ہو گی۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے اگر مزید 10 لاکھ افغان ملک سے نکلتے ہیں اور دیگر ملکوں میں سکونت اختیار کرتے ہیں، اور وہ انہی ملکوں کی جانب جاتے ہیں جہاں پہلے ہی ان کی خاصی تعداد موجود ہے، تو ان کی میزبانی پر اٹھنے والے سالانہ اخراجات تاجکستان کی صورت میں 10 کروڑ ڈالر ہوں گے (جو کہ مجموعی ملکی پیداوار کا 1.3 فی صد بنتا ہے)؛ ایران کو 30 کروڑ ڈالر کی لاگت برداشت کرنی پڑے گی (جہاں یہ خرچ مجموعی قومی پیداوار کا 0.03 فی صد کے مساوی ہو گا)؛ جب کہ پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے اخراجات آئیں گے، جو کہ مجموعی قومی پیداوار کے 0.2 فی صد کے مساوی اخراجات بنتے ہیں۔

گزشتہ ماہ تاجکستان نے کہا تھا کہ جب تک بین الاقوامی مالیاتی اعانت موصول نہ ہو وہ بڑی تعداد میں مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ دیگر وسط ایشیائی ملکوں نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ مہاجرین کی میزبانی سے قاصر ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل ہمسایوں کی تجارت پر بھی منفی اثر ڈالیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میکرو اکنامک اور سماجی سطح کے اعتبار سے ایران، پاکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے افغانستان کو برآمدات جاری رکھنا قدرتی امر ہے۔

اس سے قبل تجارتی میدان میں افغانستان نقدڈالر کمانے کا ذریعہ تھا، جو کاروبارجائز اور غیر قانونی دونوں طریقوں سے سرحد پار سے ہوتا رہتا تھا، چونکہ افغانستان کو عطیات دہندگان کی طرف سے کافی رقوم میسر آتی تھیں۔ لیکن اب، ڈالر کی دستیابی کم ہونے کے نتیجے میں ڈالر کی نقد رقوم کھچ کر وہاں پہنچیں گی۔

اس طرح، رپورٹ میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اشیا کے تبادلے کے معاملے پر مبینہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی دہشت گردی کی نوعیت کی نئی تشویش لاحق ہو سکتی ہے۔

[خ (اس میں شامل معلومات رائٹرز خبر رساں ادارے کی رپورٹ سے لی گئی ہے)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG