رسائی کے لنکس

افغاںستان سے فوجی انخلا اور صدر غنی کا دورۂ امریکہ: ماہرین کیا کہتے ہیں؟


فائل فوٹو

افغانستان کے صدر اشرف غنی امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے دو روزہ دورے میں مذاکرات کے بعد کابل واپس پہنچ گئے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی ساتھ ملاقات کے وقت افغان صدر کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی ساتھ محض فوجی شراکت داری نہیں بلکہ باہمی مفادات کے نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر نے افغانستان کی فوج اور ملک کے لئے معاشی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی افغان قیادت کو اپنے مسائل خود حل کرنے پر زور دیا ہے۔

افغان وفد کے حالیہ دورہ امریکہ پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے لئے افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زخیلوال کا کہنا ہے کہ "ہمارے ملک اور خطے میں امریکہ کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ لہٰذا افغان سیاسی قیادت کے لئے اعلیٰ سطح پر امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے عمل کا کوئی بھی موقع اہم ہوتا ہے۔"

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے صدر بائیڈن کی جانب سے افغان مسئلے کو خود سے حل کرنے کے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر عمر زخیلوال کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سن کر کوئی حیرت محسوس نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ متوقع بات تھی۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر افغانستان میں جاری تنازع کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری افغان سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے اگرچہ افغان عوام پر یہ ایک مسلط کردہ جنگ مانی جاتی ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی خواہش ہے کہ وہ اپنی صدارتی معیاد پوری کریں اور وہ اسی صورت میں ہی ممکن ہو سکتا تھا اگر امریکی اور نیٹو فورسز اپنی موجودگی کو دوام بخشتیں۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان کے لئے مالی امداد اور افغان فورسز کی ٹرینینگ کی حمایت میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے بلکہ ان سب باتوں کی یقین دہانی عالمی برادری پہلے سے ہی افغانستان کو کرا چکی ہے۔

تاہم افغانستان کے صوبہ وردک سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ، عبدالرحمٰن وردک امریکی اور افغان قیادت کی بات چیت کو مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغان وفد کا یہ دورہ ایک اچھے وقت میں ہوا ہے اور اس کے اثرات مستقبل قریب میں سامنے آئیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ افغان وفد کی ملاقات امریکہ میں صدر جو بائیڈن کے علاوہ امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور اس لحاظ سے اس دورے کی کامیابی یا ناکامی پر بحث و مباحثہ قبل از وقت ہو گا۔

افغانستان میں موجودہ امن و امان کی صورت حال کے بارے میں عبدالرحمٰن وردک کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار افغانستان کے پڑوسی ممالک پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کا مسئلہ اب تن و تنہا افغانستان کا نہیں بلکہ عالمی برادری کا مسئلہ ہے۔ اس لئے اب دیکھنا ہو گا کہ عالمی برادری کیسے یہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا تعاون ادا کرتی ہے۔

افغان صدر کی امریکہ کے صدر سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغانستان سے بین الااقوامی افواج کا انخلا جاری ہے اور افغان حکومتی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یکم مئی کے بعد سے 100 سے زائد اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ دوسری جانب افغان حکام اسے تکنیکی حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔

کابل میں مقیم باور تحریک سیاسی پارٹی کے رہنما، نجیب اللہ آزاد، کا کہنا ہے کہ لڑائی میں شدت کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طالبان کی سرگرمیاں موسم گرما میں ہمیشہ عروج پر ہوتی ہیں۔ جسے وہ 'سپرنگ آفینس' یعنی 'موسم بہار میں حملوں میں تیزی' قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ موسم گرما کے دوران انہیں نقل و حرکت میں آسانی ہوتی ہے۔ اور وہ لڑائی کے دوران چاہے دن ہو یا رات وہ کسی بھی جگہ قیام کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا بیشتر علاقہ سرد ہے جس میں شدت کی ساتھ لڑائی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے گرمی کا وقت ان کے لئے جنگ کا موسم ہے۔

دوسری بڑی وجہ امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا کا اعلان ہے۔ جس کے بعد طالبان کے حوصلے مزید مضبوط ہو گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کو فضائی حملوں کا بھی خوف نہیں ہے۔

نجیب اللہ آزاد تیسری بڑی وجہ افغان حکومت کی حکمت عملی کو قرار دیتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر طالبان اپنے دائرہ کار کو بیشتر اضلاع تک پھیلا رہے ہیں۔ اور طالبان کی جانب سے ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ 80 فیصد علاقوں میں افغان سیکیورٹی فورسز لڑے بنا طالبان کو تسلیم کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس بقول ان کے خوراک، اسلحہ اور تیاری میں سے کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ نجیب اللہ آزاد کے مطابق ایسا بھی نہیں ہے کہ افغان فوجی طالبان میں شامل ہو رہے ہیں بلکہ وہ دوبارہ سے اپنی یونٹ میں جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید افغان حکومت دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ طالبان کا عقیدہ صرف تشدد ہے۔ اور وہ افغانستان میں قیام امن پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

نجیب اللہ آزاد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی نقل و حرکت کے بعد بشمول کابل تمام صوبوں میں عوام کی بڑی تعداد نے طالبان کے خلاف خود سے ہتھیار اٹھا لئے ہیں جو کہ افغان حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

کابل میں مقیم خواتین کی حقوق اور امن کی داعی پلوشہ حسن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عوام سمجھتے ہیں کہ طالبان قیام امن کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر وہ افغانستان میں امن و امان پر یقین رکھتے تو تشدد میں اضافے کے بجائے وہ بات چیت کے عمل میں تیزی دکھاتے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال دن بدن ابتر ہو رہی ہے۔ اور جو لوگ تشدد پر یقین نہیں رکھتے تھے انہوں نے اپنی بقا کی خاطر طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔

پلوشہ حسن کا مزید کہنا تھا کہ وہ طالبان کی کارروائیوں کے مقابلے میں لوگوں کا بطور ملیشا اٹھنے کے عمل کو بھی نہیں سراہتیں۔ کیونکہ ہتھیاروں کی فراوانی ہمیشہ لڑائی کو دوام دیتی ہے جو کہ مستقبل میں افغان حکومت کے لئے سر دردی کا سبب بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عمل کے افغانستان کی سیکیورٹی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ لڑائی کے ذریعے کبھی بھی امن کا قیام نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لئے فریقین جلد از جلد جنگ بندی کو عملی بنائیں تاکہ 43 سال سے جاری لڑائی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG