رسائی کے لنکس

غیر یقینی حالات : افغان فل برائٹ اسکالرز واپس جانے سے گریزاں


افغان فلبرائٹ اسکالر، مریم (فائل فوٹو)


اسکالر شپ پرگراموں کے ذریعہ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبا کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے، ان میں سے بہت سےطلباء کا کہنا ہے کہ وہ تحفظ کے خدشات کے پیش نظر اپنے آبائی ملک واپس نہیں جاسکتے۔

گزشتہ تعلیمی سال کے دوران ایک سوسے زائد افغان طلباءفل برائٹ پرگرام کے ذریعہ امریکہ آئے تھے ، ان میں سے کچھ توافغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے کچھ دن پہلے ہی جب اچانک کابل میں امریکی سفارتخانہ بھی بند کردیا گیا تھا امریکہ پہنچے تھے۔

فل برائٹ اسکالر شپ پروگرام کی شرائط کے مطابق امریکہ آنے والے طلبا کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد لازمی طور پر اپنے وطن لوٹنا پڑتا ہے۔ وی او اے کو دیئے گئے انٹرویو میں متعدد افغان طلبا نے بتایا کہ ان کایہاں اسٹیٹس زیر تعلیم بیرون ملک طلباء کا ہے اور ان کی زندگیاں افغانستان میں طالبان کی حکومت میں خطرے میں ہیں۔

واشنگٹن کی جارج ٹاون یونیورسٹی میں جمہوریت اور حکمرانی کے شعبے میں ماسٹر ز ڈگری حاصل کرنے کے لئے گزشتہ اگست میں امریکہ آنے والی مریم رائد کہتی ہیں کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اپنے پیارے وطن واپس جانا اور وہاں کام کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

افغانستان میں خواتین طالبان سے برابر حقوق کے مطالبات والے بینرز کے ساتھ احتجاج کر رہی ہیں (فائل)
افغانستان میں خواتین طالبان سے برابر حقوق کے مطالبات والے بینرز کے ساتھ احتجاج کر رہی ہیں (فائل)

امریکی حکومت افغانستان میں امریکہ کے لئے کام کرنے یا ان سے وابستگی رکھنے والے ہزاروں لوگوں کو اس خوف سے کہ کہیں طالبان انہیں نقصان نہ پہنچائیں افغانستان سے نکال چکی ہے۔

گزشتہ برس پندرہ اگست کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد طالبان نے ان تمام افغان شہریوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا تھا جنھوں نے پچھلی افغان حکومت اور افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کام کیا تھا۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان پر ان افغان باشندوں کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں جن کے امریکہ اور سابق افغان حکومت سے تعلقات تھے۔

البنی کی اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک میں بین الااقوامی امور کےمطالعے کے لئے امریکہ آنے سے پہلے، احمد راہب ردفر وزارت خارجہ میں ایک فارن سروس افسر کے طور پر کام کرتےتھے جو اگست دو ہزار اکیس تک اسلامی جمہوریہ افغانستان تھا۔

ردفر نے وی او اے کو بتایا کہ ان کا منصوبہ تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ افغانستان واپس جاکر اپنی ڈیوٹی جوائن کریں گے لیکن افغانستان کے موجودہ حالات میں وہ ایسا نہیں کرسکتے۔

دوہزار تین سے اب تک ساڑھے نو سو سے زائد افغان طلباء فل برائٹ اسکالر شپ حاصل کرچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر دوسالہ ماسٹر ڈگری پروگرام کےلئےہیں۔بہت سے دوسرے لوگوں کو مختلف امریکی تعلیمی اداروں میں گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ سطحوں کی اسپانسر شپ کے بھی مواقع ملے۔ توقع تھی کہ اعلٰی تعلیم یافتہ یہ افغان طلباء اپنے ملک واپس لوٹ کر ایک مستحکم جمہوری نظام کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

ہیومن رائٹس واچ اور سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی کے ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ رپورٹ میں جوسترہ جنوری کوجاری ہوئی، بتایا گیا ہےکہ طالبان خواتین کو ان کے معاش اور ان کی شناخت سے محروم کررہے ہیں۔

ایک سابق فلبرائٹ اسکالر نے، جو طالبان کی انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں، کہا کہ انہیں ان کی جنس کی وجہ سے افغان وزارت زراعت، آبپاشی اور لائیو سٹاک میں نمایاں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے لیے ان کی تعلیم، کام کا تجربہ، مہارت اور ملک کے لیے ان کی لگن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

طالبان حکام نے کہا ہے کہ حکومت افغان لڑکیوں اور خواتین کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپسی کے لیے "اسلامی ماحول" کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن حکومت میں خواتین کو کوئی نمائندگی دینے کا عہد نہیں کیا گیا ہے۔ طالبان کی قیادت، کابینہ اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر مکمل طور پر مردوں کا قبضہ ہے۔

امریکی حکومت نے افغان شہریوں کو امریکہ میں آباد ہونے میں مدد کے لیے ایک " انسانی پیرول پروگرام" سمیت خصوصی امیگریشن اور داخلے کے طریقہ کار کی پیشکش کی ہے، جو انہیں سفری دستاویزات کے بغیر امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے ترجمان نے، جو کہ فل برائٹ پروگرام کے منتظم ہیں، وی او اے کے سوال پر واضح نہیں کیا کہ آیا افغان طلباء کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ان کے آبائی ملک واپس جانے کے لیے فل برائٹ کی شرط کو نرم کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے یا نہیں۔

ریڈفر نے بتایاکہ ، وہ [فل برائٹ] پروگرام کے منتظمین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سےاپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں، لیکن اب تک، انھیں مستقبل کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔ ایک طالبہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ انھیں اس بارے میں وضاحت کی اشد ضرورت ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ کیونکہ یہ غیر یقینی صورتِ حال ہمیں تکلیف دے رہی ہے۔

ایک جانب موجودہ فل برائٹ اسکالر شپ پروگرام کے طلبا کا مستقبل غیر یقینی کاشکار ہے تو دوسری جانب سال کے لئے اس اسکالر شپ کے ذریعہ اس سال موسم خزاں میں امریکہ آنے کے لئے منتخب ہونے والے طلباءبھی اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں کیونکہ ان کے ویزوں کے اجراٗ کے لئے افغانستان میں کوئی امریکی سفارتخانہ موجود نہیں اورملک سے سفر انتہائی محدود اور پیچیدہ ہوچکا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ایک افسر نے وی او اے کو بتایا کہ 2022 کے تیسویں فل برائٹ اسکالر شپ پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کے لئے اس کے سیکورٹی ، سفرکےمسائل اور پروگرام کو درپیش رکاوٹوں کا بغور جائزہ لیاجارہا ہے۔ اورہم پروگرام کی حیثیت کے حوالے سے سیمی فائنلسٹ گروپ سے بھی رابطے میں ہیں ۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ اور طالبان حکومت کے درمیان تعلقات قام نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں افغان طلباءکے لئے فل برائٹ اسکالر شپ پروگرام جاری بھی رہ سکے گا یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG