رسائی کے لنکس

'افغان امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں یہاں تک کہ طالبان خود مذاکرات سے انکار کر دیں'


عبداللہ عبداللہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کی۔

افغان اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے حملوں میں اضافے کے باوجود امن مذاکرات تب تک ختم نہیں کرنے چاہیے جب تک طالبان خود مذاکرات کی میز سے اٹھ نہ جائیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو دیے گئے انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مذاکرات کے دروازے تب تک کھلے رہنے چاہئیں جب تک طالبان انہیں مکمل طور پر بند نہ کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور زمینی صورتِ حال کے پیشِ نظر بات چیت سے انکار نہیں کر سکتے۔

عبداللہ عبداللہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کے لیے سول اور فوجی امداد اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے متعلق بات چیت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جانب سے امریکی دورے کے دوران امریکی صدر سمیت قانون سازوں سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب افغانستان میں تشدد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہوگا اور تشدد بند ہونا چاہیے۔

افغانستان میں جاری پُرتشدد کارروائیوں کے سبب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

عبداللہ عبدللہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ابتدا میں امن مذاکرات سے متعلق غیر حقیقی امید پائی جاتی تھی۔

ان کے بقول طالبان کی جانب سے مذاکراتی ارکان کے ساتھ کیے گئے دعوؤں کی وجہ سے امید پیدا ہوئی۔ تاہم عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی مذاکرات ختم نہیں کرنا چاہتے۔

ان کے بقول ابھی بھی آخری آدمی کی ہلاکت حل نہیں ہے اور اس کا پُرامن حل ہونا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG