رسائی کے لنکس

کابل کی ایک پالتو مینا انخلا کے بعد سوشل میڈیا اسٹار بن گئی


سوشل میڈیا اسٹار بننے والی کابل کی مینا۔ 10 اکتوبر 2021

کابل چھوڑنے والی ایک افغان لڑکی نے اپنی پالتو مینا سے جدا ہونا گوارا نہ کیا اور اس کا پنجرہ اپنے ساتھ رکھا۔ تاہم سفری قوانین کے تحت اسے مینا اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔ اور اس مینیا کو ایک فرانسیسی سفارت کار نے اس وعدے پر اپنے پاس رکھ لیا کہ جب اسے اجازت ملے گی وہ اسے لے جائے۔ ایک پرندے کے انخلا کے بارے میں اس خوشگوار کہانی نے اسے سوشل میڈیااسٹار بنا دیا۔

کابل میں 20 سال کی جنگ کے بعد امریکی قیادت میں ہونے والے فضائی انخلا کے دوران جہاں ایک فوجی ٹرانسپورٹ جیٹ طیارے کے پہیوں سے چمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے افغان نوجوانوں کے گر کر ہلاکتوں جیسے تکلیف دہ مناظر نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی وہیں افغانستان سے انخلا کے سفر میں ایک بولنے والی مینا کی کہانی بھی بقا کی ایک علامت کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

یہ کہانی ہے ایک افغان لڑکی کی پالتو مینا،"جوجی" کی ۔ یہ لڑکی اگست کے مہینے میں افغانستان سے ابوظہبی پہنچی اور اپنی مستقبل کی منزل فرانس جانے کے لیے جب روانہ ہوئی تو اسے مینا لےجانے کی اجازت نہ ملی۔ جس پر وہ بہت پریشان ہوئی اور رونے لگی۔

اسے روتا دیکھ کر ابوظہبی کے لیے فرانس کے سفیر ہاوئر شٹیل نے یہ وعدہ کرتے ہوئے مینا کو اپنے پاس رکھ لیا کہ وہ اس کی پوری طرح سے دیکھ بھال کریں گے۔ انہوں نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ جب چاہے اس سے مل سکے گی او جب چاہے ابو ظہبی آ کر اسے واپس لے سکے گی۔

یہ اگست کا واقعہ ہےجب فرانسیسی سفیر ہاوئیر شٹیل متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ائیربیس پر انخلا کی کوششوں میں مدد کر رہے تھے۔ افغانستان سے انخلا کرنے والے ہزاروں افغان شہری پورےخطے کی فوجی چھاونیوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت کے نزدیک اس ہوائی اڈے پر جمع ہو چکے تھے،جہاں امریکی، فرانسیسی اور دوسرے عہدے دار اگست کی سخت گرمی کے ان دنوں میں ان کی اسکریننگ کر رہے تھے۔

اپنی رہائش گاہ سے اتوار کے روز انخلا کے بارے میں بات کرتے ہوئےسفیر شٹیل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس دوران بہت سی خوشگوار کہانیاں سامنے آئیں، کیوں کہ انخلا کرنے والوں میں آرٹسٹ بھی تھے، میوزیشنز بھی تھے اور وہ لوگ بھی تھے جو اس لئے بہت پرسکون اور خوش تھے کہ انکا انخلا ہو سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ بہت سی پریشان کن داستانیں بھی سامنے آئیں۔

شٹیل نے بتایا کہ کابل سے ابو ظہبی کی فلائٹس میں،پیرس جانے والے لگ بھگ 2600 افغان مترجم، آرٹسٹ، صحافی،سر گرم کارکن اور فوجی کاٹریکٹرز کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ انہوں نے جو کچھ پیچھے چھوڑا تھا اس پر غور کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی عہدے داروں نے،افغانستان پر طالبان کے قبضے سے کئی ماہ قبل، کابل سے 2400 لوگو ں کےفضائی انخلا کا عمل شروع کیا تھا۔

فرانس کا سفیر اور کابل کی مینا۔10 اکتوبر 2021
فرانس کا سفیر اور کابل کی مینا۔10 اکتوبر 2021

سفارت کار نے بتایا کہ الظفرہ ائیر پورٹ پرافراتفری کےدوران انہیں ایک سیکیورٹی الرٹ موصول ہوا۔ القاعدہ اور داعش انتہا پسند گروپ کے خطرات پر نظر رکھنے والے افسروں نے جہاز میں ایک غیرقانونی سامان کا پتہ چلایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی کے پاس جس کی عمر 20 سال سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی تھی، ایک پراسرار کارڈ بورڈ کابنا ایک باکس تھا۔ اس کے اندر اس کا پسندیدہ پالتو پرندہ ،" جوجی"بند تھا۔ وہ جنوبی ایشیا بھر میں عام پائی جانے والی،بولنے کے لئے مشہور ایک مینا تھی لیکن حفظان صحت کے خدشات کے پیش نظر ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں تھا کہ وہ اس چھوٹے سے پرندے کو اپنے ساتھ پیرس لے جا سکتی۔

شٹیل نے بتایا کہ وہ بری طرح رو رہی تھی۔ پرائیویسی کے پیش نظر سفیر نےاس لڑکی کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ صرف یہ بتایا کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔ وہ اپنا ملک کھو چکی تھی، وہ اپنا گھر کھو چکی تھی۔ اور اس کے بعد کی جو کہانی انہوں نے گزشتہ ہفتے ٹوئٹر پر پوسٹ کی وہ افغانستان میں اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے بحران کی خبروں کے درمیان ایک اچھی خبر کے طور پر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جوجی کی خوراک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے اپنے پاس رکھ لیں گے اور انہوں نے لڑکی سے "جوجی" کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنے کا وعدہ کیا۔ جس کے بعد وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور اس کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

لڑکی نے فرانس پہنچنے کے بعد اس پوسٹ کو دیکھا اور سفیر سے رابطہ کیا ۔ شٹیل نے اسے" جوجی"کی ویڈیوز کے ساتھ جواب دیا، جس میں وہ پھل کھا رہی تھی یا اپنے سفید پنچرے میں گھوم رہی تھی یا حتًٰی کہ ان کے ماربل کے فرش والے لونگ روم میں فرانسیسی سیکھ رہی تھی۔

ابو ظہبی کے پہلے چند دنوں میں پشتو میں چہچہانے کے بعد اب،جوجی نے فرانسیسی زبان میں ہیلو سے ملتا جلتا لفظ Bonjour." سیکھ لیا ہے۔

شٹیل نے بتایا کہ کہ اس لڑکی نے مجھ سے جو باتیں کیں وہ ابھی تک میرے ذہن میں تازہ ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس حقیقت نے کہ اس کی مینا ابھی تک زندہ ہے اور کی اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے، اسے زندگی دوبارہ شروع کرنے کا حوصلہ اور امید دی ہے۔

شٹیل نے کہا کہ یہ کہانی اتنی جلدی سوشل میڈیا پر کیوں وائرل ہوئی، ابھی تک ایک راز ہے۔ لیکن امریکی اور نیٹو فورسز کے اس پریشان کن انخلا کے دوران افغانستان سے کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی تھی ۔الظفریہ ائیر پورٹ پر آپ لوگوں کے چہروں پر خوف دیکھ سکتے تھے، بچے غباروں کے پھٹنے کی آواز پر رونے لگتے تھے، ایک عورت نے بتایا کہ وہ گھبراہٹ میں صدمے کی کیفیت میں اپنے والدین کو کابل ائیر پورٹ پر بھول آئی تھی، والدین نے اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑ آنے کی دردناک کہانیاں سنائیں۔

شٹیل نے کہا کہ جب تک وہ "جوجی" کو اس کی سابق مالکہ سے دوبارہ ملاپ کا کوئی طریقہ تلاش نہیں کر لیتے، سیاہ پروں والی یہ مینا فرانس کو ان پریشان دنوں کی، اور نئی زندگی شروع کرنے والوں کے حوصلے اور پیچھے رہ جانے والے بہت سوں کے جذباتی تجربات کی یاد دلاتی رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG