رسائی کے لنکس

ٹوئٹر کے نئے سربراہ پراگ اگروال کون ہیں؟


ٹوئٹر کی جانب سے پراگ اگروال کی جاری کردہ تصویر۔

ایلون مسک، جیک ڈورسی، بل گیٹس اور مارک زکربرگ ایسے نام ہیں جو خود بھی اپنی تخلیق کی گئی برانڈز سے کم مشہور نہیں۔ کبھی ان کی ذات کی وجہ سے ان کے برانڈ تو کبھی برانڈ کی وجہ سے ان کے نام کی شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں۔

اسی صف میں اب کھڑے ہو رہے ہیں پراگ اگروال جن کا نام پچھلے ہفتے تک شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ ماہرین امید کر رہے ہیں کہ پراگ اگروال کی بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر تقرری آن لائن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر میں نئی روح پھونک سکتی ہے۔

بھارتی اخبار 'انڈیا ٹو ڈے' کے مطابق انڈیا سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پراگ اگروال ممبئی ہی میں پلے بڑھے اور وہاں کےانسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مزید تعلیم کے لئے امریکہ منتقل ہوئے اور یہیں کے ہی ہو کے رہ گئے۔ پراگ امریکہ کی صف اول کی درسگاہ سٹینفرڈ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ پراگ اگروال 2011ء میں ٹوئٹر سے منسلک ہوئے جب کمپنی کی افرادی قوت ایک ہزار تھی۔ سال 2017 میں پراگ ٹوئٹر کے چیف ٹیکنیکل آفیسر مقرر ہوئے۔

مضبوط تکنیکی صلاحیتیں اور یاہو، مائکروسافٹ اور اے ٹی اینڈ ٹی جیسے اداروں میں تحقیق کا تجربہ رکھنے والے پراگ اگروال سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ ٹوئٹر کو اس کے موجودہ مسائل سے نکال پائیں گے۔

گو کہ ٹوئٹر دنیا کے طاقتور ترین راہنماؤں اور دنیا بھر کے صحافیوں کا پسندیدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، لیکن اس کے روزانہ کے عام صارفین کی تعداد مد مقابل فیس بک یو ٹیوب اور ٹک ٹاک ایپس کے صارفین کے مقابلے میں کم ہے۔

عوامی نظروں سے دور ہونے کا مطلب عوامی تنقید سے دور رہنا بھی ہے۔ وال اسٹریٹ ماہرین کے مطابق پراگ اگروال کی غیر معروف شخصیت کے ساتھ ان کا مضبوط تحقیقی اور تکنیکی پس منظر ٹوئٹر کو انٹرنیٹ کے نئے دور 'میٹاورس' میں لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سرمایہ کاری ریسرچ ادارے (سی ایف آر اے) کے تجزیہ کارم اینجلو زینو کے مطابق پراگ اگروال ایک محتاط اور محفوظ انتخاب ہیں جو یقیناً سرمایہ کاروں کو بھائے گا۔ اینجلو زینو کے مطابق ٹوئٹر کے سابق سربراہ جیک ڈورسی پر حصص ہولڈر ایلیٹ مینیجمینٹ کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کے لئے دباؤ تھا۔

پاکستانی ٹوئٹر پر کتنے متحرک ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:26 0:00

پراگ اگروال کی تقرری پر ایلیٹ مینیجمینٹ نے پیر کے روز بیان جاری کیا کہ اگروال اور بورڈ چیئرمین بریٹ ٹیلر اس اہم موڑ پر کمپنی کے لئے بہترین انتخاب ہیں۔

ٹوئٹر کا سربراہ بن کر پراگ اگروال ان مختصر مگر طاقتور بھارتی نژاد امریکیوں کی فہرست میں بھی شامل ہوگئے ہیں جو امریکا میں صف اول کی ٹیکنالوجی کمپنیز کو چلا رہے ہیں۔ ان ناموں میں گوگل کے سربراہ سندر پچائی، مائیکروسافٹ کے ستیا نرائن اور آئی بی ایم کے اروند کرشنا شامل ہیں۔

تکنیکی معاملات کے ساتھ اب پراگ اگروال کو ٹوئٹر کے دوسرے مسائل سے بھی نبرد آزما ہونا ہوگا۔ ان میں افواہوں، جھوٹی خبروں، ہراسانی و بدسلوکی اور ان سب کے ذہنی صحت پر اثرات جیسے معاملات سے نمٹنا شامل ہے۔ فیس بک کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔

ٹوئٹر کا سربراہ بننے کے بعد پراگ اگروال کی شخصیت بھی کبھی تعریف تو کبھی تنقید کی زد میں آئے گی ہی بلکہ یہ کہنا کہ ان کے عہدہ سنبھالتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تو غلط نا ہوگا۔ سیاسی بیانات اور آزادئ اظہار کے لئے مشہور ٹوئٹر کا سربراہ بنتے ہی امریکہ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ان کی گیارہ سال پرانی ٹویٹ منظرعام پر لائی گئی۔

اس ٹویٹ کے متن میں تحریر ہے کہ "اگر یہ مسلمان اور انتہا پسندوں میں تفریق کرنے سے قاصر ہیں تو میں سفید فام اور نسل پرستوں میں فرق کیوں کروں؟"

تاہم، کئی صارفین ان کے دفاع میں یہ لکھتے نظر آئے کہ یہ الفاظ دراصل پراگ اگروال کے نہیں بلکہ اس وقت نشر ہونے والے 'دا ڈیلی شو' کے ایک مہمان نے کہے تھے اور یہ الفاظ بھی صحافی ہوان ولیمز کے بیان کے رد عمل میں کہے گئے تھے۔ ہوان ولیمز نے امریکی چینل فوکس کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ "جہاز کے سفر میں مسلمانوں کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں" میڈیا ادارے این پی آر نے اس بیان پر انہیں نیوز تجزیہ کار کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

[اس خبر کا مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سےلیا گیا ہے]

XS
SM
MD
LG