رسائی کے لنکس

امریکہ اور یورپ میں کرونا بحران سے بحالی کے آثار اور چیلنجز


میموریل ڈے کی چھٹی کے موقع پر 27 مئی کو لاس اینجلس ایئر پورٹ پر مسافروں کی قطار

2020 کے شروع میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو عالمی سیاحت کے مرکز اٹلی میں زندگی جامد سی ہو گئی ۔ وائرس سے پھیلنے والے مہلک مرض نے انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ صحت عامہ کے نظام کو درہم برہم اور لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔

اب تقریباً ڈیڑھ برس بعد جبکہ دنیا کووڈ نائنٹین کے مرض کے متعلق بہت سی آگاہی حاصل کر چکی ہے اور حفاظتی تدابیر اور ویکسین کی دستیابی نے عالمی سطح پر زندگی اور اقتصادی ترقی کی بحالی کی جانب اعتماد پیدا کیا ہے، اٹلی نے بھی نارمل حالات کی جانب اہم اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔

منگل کے روز سے اٹلی کے عوام اب ریستورانوں اور بارز کے اندر کھانے اور مشروبات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ایسا کئی ماہ کے بعد پہلی بار ہوگا کہ لوگ صبح کے وقت مقامی ریستوران میں کافی کا کپ پی سکیں گے۔

اس سے قبل کرونا کی بندشوں کے باعث اٹلی میں ریستوران شہریوں کو باہر کھانا پیش کررہے تھے اور لوگ کافی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

تاریخی شہر روم کے رہائشی پاولو لی اونی نے شہر کے وسط میں واقع ایک کیفے میں کافی پیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں زندگی کے پھر سے حسین ہونے کا احساس ہو رہا ہے۔

ڈبلن، آئرلینڈ میں بھی کرونا کی سخت پابندیوں کے بعد بازاروں کی رونقیں بحال ہونے لگیں (فوٹو رائٹرز)
ڈبلن، آئرلینڈ میں بھی کرونا کی سخت پابندیوں کے بعد بازاروں کی رونقیں بحال ہونے لگیں (فوٹو رائٹرز)

اٹلی نے کووڈ نائنٹین کے نئے کیسوں میں کمی آنے کے بعد اپریل میں احتیاطی بندشوں کو نرم کرنا شروع کیا تھا۔ اب تک چھ کروڑ لوگوں کے ملک میں ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو کووڈ نائنٹین سے بچاو کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

کرونا وائرس سے بری طرح متاثرہونے والے ملک برطانیہ نے بھی احتیاطی پابندیوں کو مزید نرم کرنا شروع کردیا ہے۔ منگل کے روز یہ اعلان سامنے آیا کہ دنیا کے مصروف ایئر پورٹ ہیتھرو کے اپریل 2020 سے بند ٹرمینل سے اب کرونا سے متاثرہ ملکوں سے مسافروں کو آنے کی اجازت ہوگی۔

اس سے قبل حکومت نے ریڈ لسٹ ( سرخ فہرست) میں شامل دنیا کے کروناوائرس سے بد ترین انداز میں متاثرہ43 ممالک سے مسافروں کے آنے کی ممانعت کر رکھی تھی۔

ان ملکوں میں بھارت، ترکی اور جنوبی افریقہ کے ملک شامل تھے اور اس اندییشے کے پیش نظر کہ وہاں سے وائرس کی نئی اقسام برطانیہ منتقل ہو سکتی تھیں وہاں سے واپس آنے والے برطانوی شہریوں کو دس دن تک قرنطینہ میں رکھا جاتا تھا۔

اب نئی ہدایات کے مطابق مسافر ایئر پورٹ کے ٹرمینل تین سے گزر سکیں گے۔

ہیتھرو ایئرپورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ٹرمینل پر ایک نئی فیسیلٹی قائم کی گئی ہے کیونکہ سرخ فہرست میں شامل ملکوں اور برطانیہ کے درمیان آمدورفت مستقبل میں جاری رہے گی۔

اس فیصلہ کو بعض ناقدین نے ایک تاخیر سے اٹھایا جانے والا اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے بہت پہلے اپنایا جانا چاہیے تھا۔

لیکن بارڈر پر کام کرنے والے ملازمین کی نمائندہ تنظیم "پبلک اور کمرشل سروسز یونین" نے اسے بہت ہی مختصر نوٹس میں متعارف کرایا گیا اقدام قرار دیا ہے ۔ یونین نے کہا کہ اب سماجی فاصلوں کی پابندی نہیں ہو گی اور اس جلدبازی سے کیے گئے اقدام کی وجہ سے ان کو اسٹاف کی کمی کا سامنا ہوگا اور اب بڑے پیمانے پر کام انجام دینے کے لیے رضاکاروں پر انحصار کرنا ہوگا۔

برطانیہ میں عالمی وبا نے ایک لاکھ اٹھائس ہزار افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ۔ دسمبر میں ویکسینیشن کے عمل کے آغاز کے بعد اب ملک میں کووڈ نائنٹین سے شرح اموات اور نئے کیسز کی تعداد میں نمایا ں کمی آئی ہے۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں بھارت سے منتقل ہونے والی کرونا وائرس کی قسم کی وجہ سے ملک میں کیسوں کی تعداد میں پھر سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ اور 21 جون کو پہلے سے طے شدہ حکومتی فیصلے کے تحت کرونا سے بچاؤکی بندشوں کو ہٹانے کے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکن برطانیہ کے لیے منگل کے روز ایک خوشخبری یہ آئی کہ عالمی وبا کے پھیلاو کے آغاز سے پہلی بار ایک روز میں کووڈ نائنٹین سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔

جرمنی میں کووڈ پابندیوں میں نرمی کے بعد لوگ ریستورانوں کا رخ کر رہے ہیں، فوٹو اے ایف پی
جرمنی میں کووڈ پابندیوں میں نرمی کے بعد لوگ ریستورانوں کا رخ کر رہے ہیں، فوٹو اے ایف پی

ادھر بحرِ اوقیانوس کے اس پار امریکہ میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے ویکسینیشن مہم کے ذریعے ملک کی تقریباً نصف آبادی کوخوراکیں دے دی ہیں جس سے کروناوائرس سے اموات اور نئے کیسز کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ پیر کو میموریل ڈے کی چھٹی کے دوران امریکی شہریوں نے بڑی تعداد میں سفر کیا جو کہ اے اے مڈ اٹلانٹک کمپنی کے مطابق واشنگٹن ڈی سی سے جڑی میری لینڈ ریاست میں معمول کے90 ٖفیصد سفری حجم کے برابر ہو سکتا ہے اور اقتصادی ترقی کی بحالی کے لیے ایک امید افزا علامت بھی۔

دارالحکومت واشنگٹن سے متصل ریاست ورجینیا میں گذشتہ ہفتے کروناوائرس کی احتیاطی تدابیر میں نرمی کے بعد لوگوں نے بڑی تعداد میں مارکیٹوں، تفریحی مقامات اور ریستوران کا رخ کیا۔

ویکسین کے عمل کے علاوہ امریکہ میں صدر بائیڈن کی جانب سے دیے گئے اسٹمولس پروگرام نے بھی اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد کی ہے لیکن اب بھی بہت سے لے لوگ بے روزگار ہیں اور چھوٹے درجے کے کاروبار ابھی کرونا کی طویل بندشوں کے سائے سے نکلنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

امریکہ عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک تین کروڑ 32 لاکھ افراد کووڈ نائنٹین سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ چھ لاکھ سے زیادہ افراد اس موذی مرض کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

لیکن سی ڈی سی کی ہدایات کے مطابق ملک میں کرونا ویکسین کی دو خوراکیں مکمل کرنے والے لوگ اب چہرے پر ماسک لگائے بغیر بپلک مقامات اور کھلی جگہوں پر اجتماعات میں شرکت کرسکتے ہیں۔ ۔ ماہر اقتصادیات نے اسے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ اس سے عوامی اعتماد کے بحال ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG