رسائی کے لنکس

logo-print

لائیو بلاگ پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر میں شدت، برطانیہ میں پابندیاں نرم کرنے کا اعلان

آخری بار اپڈیٹ کیا گیا اپریل 12, 2021

اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے: اسد عمر

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پیر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے دوران وبا کے پھیلاؤ، اسپتالوں میں گنجائش اور پابندیوں سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورتِ حال اب بھی بہت نازک ہے اور اسپتالوں پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

اسد عمر کے مطابق حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرائیں تاکہ کسی بحران سے محفوظ رہا جا سکے۔

13:22

برطانیہ میں کرونا پابندیوں میں مزید نرمی کا اعلان

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برطانوی حکومت نے کرونا پابندیوں میں مزید نرمی کا اعلان کرتے ہوئے ریستوران، جم، لائبریریز اور شراب خانوں کو جزوی طور پر کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد ان ڈور جم، سوئمنگ پولز، چڑیا گھر اور لائبریریز کے دروازے عوام کے لیے کھل جائیں گے۔

رمضان المبارک کے موقع پر برطانیہ میں مساجد بھی کھلی رہیں گی لیکن نمازیوں کو سماجی فاصلے کی دوری کی احتیاط کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

وزیرِ اعظم بورس جانسن نے پابندیوں میں نرمی کو 'آزادی کی جانب سے بڑھتے قدم' سے تشبیہ دی ہے۔

بورس جانسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پابندیوں میں نرمی سے ان کاروباری حضرات کو بڑا ریلیف ملے گا جنہوں نے طویل عرصے سے اپنا کاروبار بند کر رکھا تھا۔

13:05

خیبرپختونخوا: کرونا کے مریض صحت کارڈ کے ذریعے علاج کرا سکیں گے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت تیمور خان جھگڑا نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں کرونا کے مریض صحت کارڈ کی مدد سے مفت علاج کرا سکیں گے۔

ان کے بقول صوبے میں کسی بھی سرکاری اور مختص پرائیوٹ اسپتال میں کرونا کے مریض علاج کرا سکتے ہیں۔

تیمور جھگڑا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ لوگوں کی مشکلات کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

12:28

پاکستان میں مزید 58 ہلاکتیں

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 58 مریض ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ 4201 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4584 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد سات لاکھ 25 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی وبا سے پاکستان میں اب تک 15 ہزار 501 افراد ہلاک اور چھ لاکھ 34 ہزار سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کی شدت برقرار ہے اور ایکٹو کیسز کی تعداد 75 ہزار 266 تک پہنچ گئی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

11:08

بھارت میں ریکارڈ کیسز، برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ 68 ہزار سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک روز میں سامنے آنے والے کیسز کی یہ ریکارڈ تعداد ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں عالمی وبا کے شکار 904 مریض ہلاک جب کہ ایک لاکھ 68 ہزار 912 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

بھارت میں کیسز کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ اور اموات کی کل تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں پابندیوں کے باوجود کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ نئے کیسز سامنے آںے کے بعد متاثرہ ملکوں کی فہرست میں برازیل کو پیچھے چھوڑ کر بھارت دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

09:51

ویکسین لگوانے کے بعد احتیاطی تدابیر چھوڑنا کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے: عالمی ادارۂ صحت

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کیسز اور اموات میں اضافہ ویکسین کو نجات دہندہ سمجھنے کے باعث ہو رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کرونا وبا سے 13 کروڑ سے زائد افراد متاثر جب کہ 30 لاکھ کے لگ بھگ اموات ہو چکی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ افریقہ کے سوا دنیا کے لگ بھگ تمام خطوں میں وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کرونا وبا میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں وائرس کی نئی اقسام، حفاظتی اقدامات پر من و عن عمل نہ کرنا اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد نام نہاد معمول کی زندگی کی جانب واپس لوٹنے جیسی غلط فہمیاں شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرس کے بقول وبا میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ غلط تاثر بھی ہے کہ ویکسین آنے کے بعد اب یہ وبا ختم ہو جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ویکسین آنے کے بعد اب یہ بحران فوری ختم ہو جائے گا۔

اُن کے بقول ایسا نہیں ہے بلکہ ہمیں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے ساتھ ساتھ ویکسین کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ لوگوں کو شدید بیمار ہونے اور مرنے سے بچائے۔

مزید پڑھیے

19:13 11.4.2021

ٹوکیو اولمپکس: ایتھلیٹس کے قرنطینہ کے لیے 300 کمروں پر مشتمل ہوٹل بک کرنے کا فیصلہ

ٹوکیو اولمپکس کے منتظمین نے رواں سال جولائی میں شیڈول کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے اولمپکس کو کرونا سے پاک رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

منتظمین نے کرونا مثبت آنے کی صورت میں ایتھلیٹس اور دیگر افراد کے قرنطینہ کے لیے 300 کمروں پر مشتمل ہوٹل بک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ان کھلاڑیوں کو 10 روز تک قیام کرنا پڑے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل اولمپک ویلج سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر حاصل کیا جائے گا اور اس کے حصول پر لاکھوں ڈالرز لاگت آئے گی۔

جاپان کے خبررساں ادارے 'کیوڈو' کے مطابق ان کمروں میں ان متاثرہ کھلاڑیوں اور شرکا کو رکھا جائے گا جن میں کرونا کی معمولی علامات معمولی ہوں گی یا جن کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئیں گے اور انہیں اسپتال داخل کرانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مزید پڑھیے

16:10 11.4.2021

بھارت میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے کرونا کیس

بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کرونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں اتوار کو ایک لاکھ 52 ہزار 879 نئے کیسز اور 839 اموات رپورٹ ہوئیں۔ بھارت میں ریکارڈ ہونے والے کیسز وبا کے آغاز سے اب تک کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں۔

اتوار کو رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 72 فی صد سے زائد پانچ ریاستوں مہاراشٹرا، چھتیس گڑھ، کرناٹک، اترپردیش اور کیرالہ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

بھارت میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد ایک کروڑ 33 لاکھ 58 ہزار805 ہے جب کہ ایک لاکھ 69 ہزار275 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

14:16 11.4.2021

پاکستان میں کرونا سے مزید 114 اموات، پانچ ہزار سے زائد نئے کیس

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت برقرار ہے۔ ملک میں اتوار کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار پچاس افراد متاثر جب کہ 114 ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 46 ہزار 66 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں 10.96 فی صد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اتوار کو رپورٹ ہونے والی اموات گزشتہ سال 30 جون کے بعد ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہزار 443 ہوگئی ہے۔

ملک میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز سات لاکھ 21 ہزار 18 ہیں جن میں سے چھ لاکھ 31 ہزار700 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

14:14 11.4.2021

کیا وبا کے بعد بھی ٹیلی ورک یا گھر سے کام کا سلسلہ جاری رہے گا؟

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد امریکی کاروباروں نے بڑے پیمانے پر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد امریکہ میں پچھلے برس ساڑھے سات کروڑ افراد گھر سے کام کرتے رہے۔ وبا سے پہلے امریکہ میں یہ تعداد محض 50 لاکھ تھی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس صورتحال میں تبدیلی شاید ممکن نہ ہو کیونکہ مالکان اور ملازمین، دونوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ گھر سے بھی موثر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے۔

رینسیلر پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کے ٹموتھی گولڈن نے وائس آف امریکہ کی ڈورا میکوئیر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’عالمی وبا نے ہمارے ٹیلی ورک، یا گھر سے کام کو دیکھنے کے نظریے کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ذہن تبدیل ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سی ثقافتی اور سماجی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں جن میں ہمارے کام کرنے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں۔ بہت سے افراد اور کمپنیوں کو اندازہ ہوا ہے کہ ہم دور بیٹھ کر بھی موثر انداذ میں کام کر سکتے ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ گھر سے بیٹھ کر کام مستقل بنیادوں پر موجود رہے گا۔‘‘

بہت سی کمپنیاں اس عالمی وبا کے بعد اپنے ملازمین سے کام لینے کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کمپنیاں مخلوط نظام متعارف کروائیں گی جس میں کچھ لوگ تو دفتروں میں واپس جا کر کام کریں گے جب کہ کچھ لوگ گھروں سے ہی کام جاری رکھیں گے یا پھر کبھی آفس اور کبھی گھر سے کام کریں گے۔

مزید جانیے

22:27 10.4.2021
مزید
Previous slide
Next slide

XS
SM
MD
LG