رسائی کے لنکس

logo-print

مستقبل میں دنیا کے کئی معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں: امریکی انٹیلی جنس رپورٹ


ماحولیاتی تبدیلیوں سے سیلاب، بگولے اور طوفان آ سکتے ہیں جو آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ فائل فوٹو

عالمی وبا اور طویل عرصے سے جاری نظاموں اور اداروں کو درپیش چیلنجوں سے لڑتی اس دنیا میں آئندہ بیس برسوں میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آنے والی۔ یہ تجزیہ، امریکی انٹیلی جنس کے تجزیہ کاروں کی جانب سے ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جسے گلوبل ٹرینڈز 2040 کا نام دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ادارے اور نظام بین الاقوامی واقعات پر حاوی رہے۔ اور انہیں کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے چیلینجوں کا سامنا کرتے ہوئے دباؤ بڑھتا رہے گا۔ ان میں ماحولیاتی تبدیلی، امراض، مالی بحران، اور جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی جیسے چیلنج شامل ہیں۔

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ان چیلنجوں سے کمیونیٹیز، ریاستوں اور عالمی نظاموں کی لچک اور مطابقت کا بار بار امتحان ہوتا رہے گا، اور یہ اکثر نظاموں اور ماڈلوں کی استعداد سے بالاتر ہوجائیں گے جب کہ ان سے پیدا شدہ چند واقعات تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق ہر چار سال بعد، نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی مرتب کردہ گلوبل ٹرینڈز 2040 نامی رپورٹ میں حالات کا مایوس کن تجزیہ اس کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ جیسی جمہوریتیں، اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب رہیں گی اور پھلنے پھولنے کے قابل ہو سکیں گی، تاہم اس بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تسلسل کے ساتھ شدت اختیار کرتے مسائل سے یہ جمہوریتیں احسن طور پر نہ نمٹ سکیں تو پھر شاید ایسا نہ ہو سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا نے دنیا کو نہ صرف اس کی کمزوری کی یاددہانی کرائی ہے بلکہ ایک دوسرے پر انتہائی درجے کے انحصار میں موجود خطرات کا بھی اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی نظام ایسے پیچیدہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں کمزور ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کو اس رپورٹ میں اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے جو کہ توقع ہے کہ آئندہ دو عشروں میں بتدریج شدت اختیار کرتا جائے گا اور تمام ممالک میں بلند درجہ حرارت،سمندروں کی سطح میں اضافے اور طوفانوں، بگولوں اور سیلابوں کی شکل میں شدید موسموں کا باعث بنے گا۔

ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان غریب اور ترقی پزیر ممالک کو ہے، اور ان ممالک کی حکومتوں کی ان تغیرات سے مقابلہ کرنے اور مطابقت کی صلاحیت کے فقدان سے نقل مکانی کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے نتیجے میں ترقی یافتہ ممالک کے وسائل اور اہلیت پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

ایک اور اہم تشویش یہ ہے کہ مربوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملکوں کے خلاف رد عمل پیدا ہو رہا ہے اور اس سے دنیا میں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھتے جائیں گے

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ مختلف سمتوں میں بٹی ہوئی دنیا ،قدرتی طور پر ایک دوسرے سے پیوستہ بھی ہے اور ایسے میں لوگ تحفظ کے حصول کے لیے اپنی تسلیم شدہ اور نئی نمایاں شناخت کی بنیاد پر ہم خیال گروپوں سے جڑ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس رجحان میں مزید اضافہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کر رہی ہے، جس کے ذریعے حکومتیں، گروہ، اور یہاں تک کہ کاروبار بھی آسانی سے رائے عامہ کو ہموار کر سکتے ہیں۔ اس میں اشتہاری مہم اور ڈس انفارمیشن جیسے حربے شامل ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک دوسرا عنصر، جو آئندہ بیس برسوں میں اس دنیا کا نقشہ بدلے گا، وہ ہے امریکہ اور چین کے درمیان عالمی طاقت بننے کی بڑھتی ہوئی جنگ۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک مثبت منظر نامے میں امریکہ اور اس کے جمہوریت پسند اتحادی غالب آئیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چین اور روس جیسے مخالفین اپنے اپنے ملکوں میں سماج کو کنٹرول کرتے ہوئے تھک چکے ہیں کیونکہ وہاں اختراع پسندی جمود کا شکار ہو چکی ہے۔

تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں، کہ وہ چین کو بھی دنیا کی اگر غالب نہیں تو صفِ اؤل کی ایک طاقت بنتے دیکھ رہے ہیں۔

دوسری طرف منظر نامے کا تاریک پہلو یہ ہے کہ دنیا میں خوراک کی قلت اور افواہوں سے تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جس سے دنیا بھر میں لیڈر اور حکومتیں گر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دولت اور وسائل کی تقسیم میں ایک انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG