رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: 'پب جی' پر پابندی پہ آن لائن کمیونٹی 'ناراض'


فائل فوٹو

پاکستان میں ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک معروف آن لائن ویڈیو گیم 'پب جی' پر عارضی پابندی لگا دی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس اقدام پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

پی ٹی اے نے 'پب جی' تک رسائی یکم جولائی کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس بارے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر اس نے لوگوں سے رائے بھی طلب کی تھی۔

پی ٹی اے نے ایک نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف معاشرتی طبقوں کی جانب سے کی جانے والی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے 'پب جی' پر عارضی طور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں 'پب جی' کھیلنے والوں کی خودکشی کے کچھ واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جسے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور گیم کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

'پب جی' ایک آن لائن گیم ہے جو 2017 میں لانچ کیا گیا تھا لیکن اس کا موبائل ورژن 2018 میں لانچ ہوا جس کے بعد یہ بچوں اور نوجوانوں میں خاصا مقبول ہو گیا ہے۔ گوگل کے پلے اسٹور سے یہ گیم 10 کروڑ سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

یہ گیم بیک وقت ایک سے زائد افراد گروپ بنا کر بھی کھیل سکتے ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گیم کھیلنے والے ایک دوسرے سے آڈیو پیغامات کے ذریعے گیم کھیلنے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر سکتے ہیں۔

'پب جی' میں ایک جزیرے کا منظر پیش کیا گیا ہے جہاں آپ پیدل یا مختلف گاڑیوں میں سوار ہو کر گھوم سکتے ہیں، گھروں میں داخل ہو کر اسلحہ جمع کر سکتے ہیں لیکن گیم کھیلنے کا بنیادی مقصد دشمنوں کو مارنا ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ گیم بچوں کو تشدد کی طرف لے جا رہا ہے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کو شکایات بھی کی گئی ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے گیم پر پابندی کے اقدام کے بعد سے ​ٹوئٹر پر 'پب جی' سے متعلق مختلف ٹرینڈز بنتے رہے۔ اب بھی ٹوئٹر پر #unbanpubginpakistan ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے تحت لوگ حکومت سے اس گیم پر عائد پابندی ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی اس پابندی کے خلاف میدان میں ہیں۔ سوشل میڈیا پرسنیلٹی جنید اکرم نے 'پب جی' بند کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ایک ویڈیو میں اپنے مخصوص انداز میں انہوں نے کہا کہ گیمنگ دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری میں شامل ہوتی ہے، ہالی وڈ میوزک سے بھی زیادہ۔ مگر یہاں بابے بیٹھے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کھیلو گے، کودو گے تو ہو گے خراب۔

ایک اور سوشل میڈیا انفلوئنسر وقار ذکا نے 'پی ٹی اے' کے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کا کہنا تھا کہ 'پب جی' پر پابندی کے خلاف وہ سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ پاکستان کی 'ڈیجیٹل گروتھ' کو روک دے۔

سوشل میڈیا پر صارفین میمز بنا کر اس فیصلے پر طنز کر رہے ہیں تو کچھ سنجیدہ انداز میں حکام تک اپنا مؤقف پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امینہ نامی ایک صارف نے طنزیہ انداز میں ٹوئٹر پر لکھا کہ پی ٹی اے کی جانب سے 'پب جی' بند کیے جانے کے بعد خودکشی کے کیس صفر ہو گئے ہیں۔ غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد بھی صفر ہو گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ 75 روپے پر آ گئی ہیں اور پاکستانی گریجویٹس کی آمدنی بل گیٹس سے زیادہ ہو گئی ہے۔

منور بلوچ نے کہا کہ پب جی کو اس لیے بند کیا گیا کہ بچے ڈپریشن کا شکار ہو کر خودکشی کر رہے تھے۔ لیکن ان طلبہ کا کیا ہو گا جو آن لائن کلاسز کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہیں؟

ایک صارف کا کہنا تھا کہ گیمنگ جرم نہیں ہے لیکن پی ٹی اے لوگوں کو جرائم کی طرف دھکیل رہی ہے۔

قمر جاوید نامی صارف نے ٹوئٹ کیا کہ پب جی سے پابندی ہٹائی جائے۔ ہمارے گیمرز ہزاروں ڈالر پاکستان لا رہے ہیں۔ لہٰذا گیمنگ کمیونٹی اور 'ای اسپورٹس' کو برباد کرنے کے بجائے اسے سپورٹ کیا جائے۔

قطب الدین احمد نامی ایک صارف نے وزیرِ اعظم عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کرونا وائرس کی عالمی وبا کی صورتِ حال کے دوران انٹرٹینمنٹ کے سب سے بڑے ذریعے کو کیوں بند کر رہے ہیں۔ ہم باہر کھیلنے نہیں جا سکتے نہ ہی ہمارے پاس کوئی مصروفیت ہے، سوائے آن لائن پڑھائی کے۔ ایسی صورتِ حال میں یہی ہماری تفریح کا ذریعہ ہے۔ اسے بند نہ کریں۔

احسن نامی صارف نے کہا کہ گیمنگ انڈسٹری ہالی وڈ، لالی وڈ اور بالی وڈ سے بڑی صنعت ہے۔ حکومت اس سے بڑا سرمایہ حاصل کر سکتی ہے

عامر درانی نامی صارف نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ گیمنگ 150 ارب ڈالرز کا حجم رکھنے والی صنعت ہے جو ہر سال 10 فی صد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ یہ پروگرامنگ اور الیکٹرانک مارکیٹ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے بے دماغ لوگ اونچے عہدوں پر بیٹھے ہوں تو پاکستان کو دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر پی ٹی اے سے متعلق یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ 'پب جی' بند کے کی وجہ سے کسی نے ادارے کی ویب سائٹ ہیک کر لی ہے جس پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے ان افواہوں کی تردید کی۔

دوسری جانب بعض لوگ 'پب جی' پر پابندی کی حمایت کرتے بھی دکھائی دیے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کافی کم تھی۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے 'پب جی' کے ساتھ 'ٹک ٹاک' پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیدہ رباب نامی ایک صارف نے لکھا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی سے 'پب جی' پر پابندی سے متعلق بات کر رہی تھی تو میری امی نے سن لیا۔ ان کا پہلا ردعمل تھا کہ بہت اچھا ہوا، اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ یہ گیم وہاں چلا جائے جہاں سے اس کی واپسی ہی نہ ہو۔​

ارمان نامی صارف نے لکھا کہ 'پب جی' پر پابندی 2020 کی پہلی اچھی خبر ہے۔ ٹک ٹاک پر پابندی دوسری اچھی خبر ہو گی، انشا اللہ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG