رسائی کے لنکس

logo-print

جنگی جرائم کی تحقیقات، اسرائیل کا بین الاقوامی عدالت سے تعاون نہ کرنے کا اعلان


اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر نے تین مارچ کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں کی صورتِ حال پر تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت ہیگ میں واقع ہے۔ اسرائیل اس عدالت کا رکن نہیں ہے۔

آئی سی سی نے نو مارچ کو اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر ججز کو بتائیں کہ کیا وہ اپنے تئیں ان جرائم کی تحقیقات کر رہے ہیں جن کی تحقیقات آئی سی سی کر رہا ہے یا نہیں۔

جمعرات کو ڈیڈ لائن گزرنے سے عین قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت نے آئی سی سی سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل عدالت کو ایک خط بھیجے گا جس میں اس بات کی مکمل تردید کی جائے گی اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔

خط میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل بحیثیت ریاست قانون کی حکمرانی کے لیے پر عزم ہے اور امید ہے کہ بین الاقوامی عدالت اس کی خود مختاری اور اختیار میں مداخلت سے اجتناب کرے گی۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی 2015 سے رکن ہے اور اس نے عدالت کی جانب سے تحقیقات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے ان تحقیقات کے التوا کی بھی مخالفت کی ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت عالمی سطح پر واحد عدالت ہے جو کہ جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات کر سکتی ہے۔ اس عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا۔ عدالت کے قیام کا مقصد انسانیت کے خلاف سرزد ہونے والے ان بدترین جرائم کی تحقیقات کرنا ہے جہاں مقامی عدالتوں کا دائرۂ اختیار نہ ہو یا ان کی استعداد نہ ہو کہ وہ ان جرائم کی تحقیقات کرا سکیں۔

آئی سی سی کی خاتون پراسیکیوٹر فاتو بنسودا کہہ چکی ہیں کہ عالمی عدالت کی تحقیقات میں غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے اسرائیل میں ضم کیے گئے علاقوں میں 2014 کے بعد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

ان تحقیقات میں 2014 میں ہونے والی غزہ کی جنگ کو مرکزی اہمیت دی جائے گی جب کہ 2018 کے بعد احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کی اموات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

فاتو بنسودا کا کہنا تھا کہ پانچ سال کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ فریقین (اسرائیل کی فوج، غزہ پر حکمران اسلامی گروہ حماس اور فلسطین کی دیگر مسلح تنظیموں) سے جنگی جرائم سرزد ہوئے ہیں۔

حماس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف اس کے حملے دفاعی نوعیت کے اقدامات ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو اپنے بیان میں مزید کہا کہ منافقت پر مبنی عدالت اسرائیل کے فوجیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کہ انتہائی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی ملک امریکہ بھی قبل ازیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات پر تنقید کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر فاتو بنسودا پر ٹرمپ دور میں عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بین الاقوامی عدالت نے امریکی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امریکہ سے اشتراک کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے فاتو بنسودا پر اس وقت مالی اور ویزہ پابندیاں عائد کی تھیں جب انہوں نے افغانستان میں امریکہ کی فوج کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG