رسائی کے لنکس

امریکہ میں کرونا وبا کا دباؤ، تمباکو نوشی کے خلاف کوششیں بھی متاثر


فائل فوٹو

عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں وبا کے باعث بے شمار لوگوں کو دباؤ اور ذہنی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک امریکہ میں ویکسی نیشن کے باوجود بھی تاحال صورتِ حال مکمل کنٹرول میں نہیں آ سکی۔

وبا کے باعث گھروں میں محصور لوگوں میں ذہنی اضطراب اور دباؤ سے متعلق مسائل بھی دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے تمباکو نوشی کے رحجان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول' (سی ڈی سی) کے مطابق امریکہ میں تمباکو نوشی سے سالانہ چار لاکھ 80 ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

'سی ڈی سی' کے مطابق امریکہ میں اس وقت تین کروڑ 41 لاکھ کے قریب بالغ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں جب کہ ایک کروڑ 60 لاکھ سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے دباؤ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں گزشتہ سال سگریٹ کے عادی بہت ہی کم افراد کی جانب سے تمباکو نوشی ترک کرنے والی ہاٹ لائنز پر کالز کی گئیں۔

محققین پہلے ہی کرونا وبا کے دوران کینسر کی اسکریننگ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں کیوں کہ وبا کے دوران امریکیوں کی جانب سے روٹین چیک اپ کرانے کے رُحجان میں بھی کمی آئی ہے۔

حکام کے مطابق تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے قومی ہاٹ لائن کو موصول ہونے والی کالوں کی تعداد 27 فی صد کم ہو کر پانچ لاکھ ہو گئی تھی جو کہ ایک دہائی میں سب سے کم ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ڈاکٹر نینسی رگوٹی کا کہنا ہے کہ "یہ واقعی بے حد پریشان کن ہے کہ کوئٹ لائن کالز کی تعداد میں اتنی کمی آئی ہے اور یہ تعداد وہی ہے جس کی میں امید کر رہی تھی۔"

ہزار بالغ افراد پر مشتمل ایک سروے میں ڈاکٹر نینسی رگوٹی اور ان کے ساتھیوں نے یہ دیکھا کہ کرونا وبا کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ان میں سے تقریباً ایک تہائی افراد نے سگریٹ نوشی کی۔

لاس اینجلس کی ایلی کوم اسٹاک گزشتہ سات سالوں سے تمباکو نوشی نہیں کر رہی تھیں اور گزشتہ سال مارچ میں جب وبا کی وجہ سے ان کی نوکری ختم ہوئی تو انہوں نے بے روزگاری کے دوران دوبارہ سگریٹ پینا شروع کر دی۔

بتیس سالہ ایلی کوم اسٹاک نے کہا کہ سگریٹ پینے سے اُنہیں کچھ سکون ملا لیکن میں جانتی ہوں کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے جو بے چینی کی کیفیت سے چھٹکارا نہیں دلا سکتا۔

چند مہینے گرزنے کے بعد ایلی کوم اسٹاک نے سگریٹ چھوڑ دی، انہوں نے کہا کہ "نومبر میں مجھے احساس ہوا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، میں تمباکو نوشی کی عادی تھی اور میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔"

سی ڈی سی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اگرچہ سگریٹ کی فروخت میں گزشتہ سال مارچ یعنی پہلے لاک ڈاؤن کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا تھا لیکن بعد میں وہ پہلے کی ہی سطح پر آ گئی۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سگریٹ کی فروخت میں اضافہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی جانب سے اسے اسٹاک (جمع) کرنےکی وجہ سے ہوا۔

امریکن سوسائٹی آف ایڈکشن میڈیسن کے بورڈ ممبر برائن ہرلی نے کہا کہ ہاٹ لائن کالوں میں پچھلے سال کی کمی بدترین نتائج کی ایک جھلک ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ سال کوئٹ اسموکنگ کالز کے اعدادوشمار میں مثبت عنصر بھی سامنے آیا ہے۔

منی سوٹا ہاٹ لائن پر کال کرنے والے تمباکو نوشی کے عادی افراد کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ تمباکو نوشی کر رہے ہیں لیکن وہ عالمی وبا کرونا کی وجہ سے سگریٹ چھوڑنے کے لیے زیادہ متحرک ہیں اور جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی کرونا وائرس کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ سال محکمۂ صحت کی جانب سے تمباکو نوشی ترک کرنے کے حوالے سے مہم اور اشتہارات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ زیادہ تر یہ مہم اور اشتہارات عالمی وبا کرونا وائرس سے متعلق آگاہی، سماجی رابطوں کے اصولوں پر عمل اور ماسک لگانے کی ہدایت سے تبدیل کر دی گئیں۔

سی ڈی سی نے حال ہی میں 'تمباکو نوشی سے متعلق نکات' پر مبنی اشتہاری مہم دوبارہ شروع کی ہے اور وہ بالغوں اور نوعمروں کے درمیان تمباکو کے استعمال پر سالانہ سروے بھی کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG