رسائی کے لنکس

عورت مارچ کے شرکا پر 'توہین آمیز' نعروں کے الزامات، منتظمین کا حقائق سامنے لانے کا مطالبہ


عورت مارچ کے شرکا کی ایک تصویر

پاکستان میں خواتین کے عالمی دن پر آٹھ مارچ کو ہونے والے عورت مارچ کے منتظمین نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مارچ کے شرکا پر توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان میں یوں تو ہر سال ہی عورت مارچ کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے لیکن اس بار تین ہفتے گزر جانے کے باوجود عورت مارچ سے متعلق تنازعات زیرِ بحث ہیں۔

ایک صحافی کی جانب سے 10 مارچ کو ایک ٹوئٹ کی گئی جس کے ساتھ عورت مارچ کی مبینہ ویڈیو شیئر کی گئی اور کہا گیا کہ شرکا نے توہینِ مذہب پر مبنی نعرے لگائے۔

البتہ، عورت مارچ کے منتظمین نے ویڈیو کو جھوٹ پر مبنی اور مارچ کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔

یہ معاملہ پشاور کی ایک سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پھر سے میڈیا میں موضوعِ بحث ہے جس میں کورٹ نے پشاور کنٹونمنٹ تھانے کو مارچ کے منتظمین کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

عورت مارچ منتظمین میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد اور کراچی میں عورت مارچ کے منتظمین وضاحت دے چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور کے علاوہ کراچی کی ماتحت عدالت نے بھی مارچ کے منتظمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو اپریل کو ایسی ہی ایک درخواست اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں بھی دائر کی جا رہی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس پر منتظمین کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ مارچ منتظم کا کہنا تھا کہ "کسی پر توہینِ مذہب کا الزام لگ جانا ہی کافی خطرناک ہے۔" لیکن وہ اس کا مقابلہ قانونی طریقے سے عدالت میں کرنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اس لیے وہ ان درخواستوں کو عدالت میں ہی چیلنج کر رہے ہیں تاکہ مقدمات کا اندراج روکا جا سکے۔

انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے بھی عورتوں کے حقوق کے لیے جلوس نکالے جاتے تھے لیکن اس کا نام عورت مارچ نہیں تھا۔

ان کے مطابق پہلے سال ہی مارچ کے نعروں اور پلے کارڈز کو بعض سماجی اور انتہا پسند حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور امید کی جا رہی تھی کہ آئندہ عورتیں یہ مارچ نکالنے کا نہیں سوچیں گی۔

لیکن اُن کے بقول گزشتہ سال کے برعکس شرکا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ "مذہبی انتہا پسند عناصر صنفی برابری اور صنفی انصاف جیسے نظریات کے خلاف ہیں۔ ان کے پاس اب یہ آخری حربہ ہے کہ وہ توہینِ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کریں۔"

عورت آزادی مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وزیرِِ اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی ویڈیو کے فرانزک معائنے اور ویڈیو جھوٹی ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر چکے ہیں۔

عورت مارچ پر لوگ کیا کہتے ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:22 0:00

منتظمین کا کہنا ہے کہ اُن کا یہی مطالبہ ہے کہ ویڈیو کا فوری معائنہ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

البتہ طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل اتنا سادہ نہیں ہے۔

اُن کے بقول اگرچہ ان الزامات کی تردید ہر سطح پر کی جا چکی ہے لیکن یہ معاملہ کچھ حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر الجھایا جا رہا ہے جس کا مقصد عورتوں کو ان کی آواز سے محروم کرنا ہے۔

اس معاملے پر ہیومن رائٹس کمیشن نے دو روز قبل ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ مارچ منتظمین نے الزامات کو رد کیا ہے۔ لہٰذا اس طرح کے اقدامات سے مارچ کے شرکا کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جا رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان اور مارچ کے منتظمین کا یہی کہنا ہے کہ ویڈیو کی فوری جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔ فرانزک کے نتائج کو عوام کے سامنے لانے سے افواہیں اور الزامات دم توڑ جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG